بیلا حدید کونسی بیماری میں مبتلا ہیں؟ اسپتال سے تصاویر شیئر کردیں
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
معروف امریکی ماڈل بیلا حدید نے اسپتال سے تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہیں جس سے مداحوں میں تشویش کی لہر دوڑ اُٹھی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق بیلا حدید طویل عرصے سے لائم بیماری (Lyme Disease) میں مبتلا ہیں اور وہ اس بیماری کے علاج کے سلسلے میں اسپتال میں کئی مرتبہ زیر علاج رہ چکی ہیں۔
حالیہ دنوں میں انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی تصاویر میں بیلا کبھی سر پر پٹی، ہاتھ میں آئی وی ڈرپ، اور کبھی برف کا پیک ماتھے پر رکھے دکھائی دیں۔
دیگر تصاویر میں وہ اسپتال کے کمرے میں آرام کرتے ہوئے اور اہلِ خانہ کے ساتھ تاش کھیلتے اور پیزا کھاتے دکھائی دیں۔ جبکہ ایک اور تصویر میں وہ کافی کا کپ ہاتھ میں لیے لفٹ میں بیٹھی نظر آئیں۔
بیلا نے کیپشن میں مداحوں سے معذرت کرتے ہوئے لکھا: ’سوری میں اکثر غائب ہو جاتی ہوں، میں آپ سب سے محبت کرتی ہوں۔‘
سوشل میڈیا پر بیلا حدید کی یہ تصاویر وائرل ہو گئیں جس نے مداحوں کو تشویش میں مبتلا کردیا اور مداحوں نے ان کی جلد صحتیابی کی دعائیں کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
بیلا حدید کی پوسٹ پر ان کی بہن جی جی حدید نے کمنٹ میں لکھا: ’آئی لَو یو! تم جلد بہتر ہو جاؤ، جیسا کہ تمہارا حق ہے۔‘
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بیلا حدید
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔