مون سون کا سیزن اختتام پذیر، سیلاب زدہ علاقوں سے پانی اترنے لگا: ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
**لاہور: ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے اعلان کیا ہے کہ صوبے میں مون سون کا سیزن باضابطہ طور پر ختم ہو چکا ہے اور آئندہ ہفتے بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ بارشوں کے اختتام کے بعد سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی سطح تیزی سے کم ہو رہی ہے اور بیشتر اضلاع میں کشتیاں بھی اب غیر فعال ہو گئی ہیں، مرالہ سے لے کر پنجند تک دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے اور کسی مقام پر بند توڑنے کی نوبت نہیں آئی۔
عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ پنجاب کے 28 اضلاع میں مجموعی طور پر 4 ہزار 755 دیہات سیلاب سے متاثر ہوئے، جن میں علی پور، ملتان اور جلال پور سب سے زیادہ متاثرہ علاقے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیلاب کے نتیجے میں 24 لاکھ 82 ہزار ایکڑ زرعی اراضی زیرِ آب آئی، جس میں چاول کی فصل 15 فیصد اور گنے کی فصل 22 فیصد تک متاثر ہوئی۔ تاہم، محکمہ زراعت نے بروقت اقدامات کے ذریعے مویشیوں کے لیے چارہ فراہم کیا اور لائیو اسٹاک کو بڑی حد تک نقصان سے بچایا۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ سیلاب کے دنوں میں 425 میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے، جہاں متاثرین کو طبی سہولیات فراہم کی گئیں، کل سانپ کے کاٹنے سے ایک ہلاکت ہوئی، جبکہ مجموعی طور پر اب تک 123 افراد سیلاب کے باعث زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی ڈی ایم اے
پڑھیں:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
لاہور: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔