واشنگٹن میں امریکی فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، چار افراد سوار تھے
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
امریکی ریاست واشنگٹن میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا، جس میں چار فوجی سوار تھے۔
امریکی فوج کے مطابق حادثہ بدھ کی شب جوائنٹ بیس لیوس میک کارڈ کے قریب پیش آیا۔
ترجمان کے مطابق یہ ہیلی کاپٹر ایم ایچ-60 بلیک ہاک تھا جو معمول کی تربیتی مشق پر تھا۔
فوجی حکام نے بتایا کہ سوار اہلکار 160ویں اسپیشل آپریشنز ایوی ایشن رجمنٹ سے تعلق رکھتے تھے۔ فوج نے ابھی تک فوجیوں کی حالت کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔
امریکی میڈیا کے مطابق حادثہ رات 9 بجے کے قریب پیش آیا، جس کے بعد علاقے میں آگ بھڑک اٹھی۔ جمعرات کی صبح تک آگ ایک ایکڑ رقبے تک پھیل چکی تھی۔
فوج نے کہا ہے کہ یہ اب بھی ایک فعال سرچ مشن ہے اور ماہر ٹیمیں صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں۔
حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔