ڈالر مہنگا، اسٹاک مارکیٹ نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان میں آج امریکی ڈالر کی قیمت میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا ہے، انٹر بینک میں آج کاروبار کے دوران ڈالر 40 پیسے مہنگا ہو گیا۔
ایکسچینج کمپنیزایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق انٹر بینک میں کاروباری ہفتے کے پانچوں روز امریکی ڈالر 40 پیسے مہنگا ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز انٹر بینک میں امریکی ڈالر 40 پیسے کے اضافے کے بعد 281 روپے 90 پیسے پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
گزشتہ کاروباری روز یعنی جمعرات کے روز انٹر بینک میں ڈالر 281 روپے 50 پیسے پر بند ہوا تھا۔
اسی طرح اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر 5 پیسے مہنگا ہو کر 282 روپے 75 پیسے پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جمعرات کے روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر 282 روپے 70 پیسے پر بند ہوا تھا۔
دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کے آخری روز ٹریڈنگ کے آغاز ہی پر نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی اور بینچ مارک 100 انڈیکس ایک لاکھ 58 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کر گیا۔
مارکیٹ میں کاروبار کے دوران 754 پوائنٹس کے اضافے کے بعد انڈیکس 1 لاکھ 58 ہزار 707 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 1 لاکھ 57 ہزار 953 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مثبت رجحان کے باعث مارکیٹ نئی بلندیوں کی جانب گامزن ہے اور ماہرین کے مطابق یہ تسلسل معیشت میں استحکام کی امیدوں کو مزید تقویت دے رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکی ڈالر کے مطابق رہا ہے
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔