بانی پی ٹی آئی کو عدالت میں پیش کرنے کی درخواست خارج
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
— فائل فوٹو
بانی پی ٹی آئی کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش کرنے کی درخواست خارج کردی گئی۔
راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت میں 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت جج امجد علی شاہ نے کی۔
عمران خان کی ویڈیو لنک حاضری کے خلاف دائر درخواست پر استغاثہ نے عدالت میں دلائل پیش کیے۔
پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے بتایا کہ جیل ٹرائل کو اے ٹی سی منتقل کرنا پنجاب حکومت کا ایگزیکٹو آرڈر ہے، ایگزیکٹو آرڈر پر نظرثانی عدالت کا اختیار ہے، 2016ء میں سی آر پی سی میں ترمیم کے تحت ملزم کی ویڈیو لنک پر پیشی کی منظوری دی گئی۔
اُنہوں نے بتایا کہ اے ٹی ایکٹ کے سیکشن21، 15 کے تحت عدالت کا اختیار ہے کہ وہ ٹرائل کا فیصلہ کرے۔
پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے مزید بتایا کہ حکومت ٹرائل کو ایک سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی وجہ بتانے کی پابند نہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ ویڈیو لنک پر حاضری کے خلاف درخواست ٹرائل میں رکاوٹ اور وقت ضائع کرنے جیسا ہے۔
اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر اکرام امین منہاس نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ نوٹیفکیشن پر اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنا وکلاء صفائی کا حق ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنا ان کا حق ہے لیکن ٹرائل نہیں روکا جاسکتا۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل محمد فیصل ملک نے کہا کہ ہم عدالت سے فیئر ٹرائل کا تقاضا کرتے ہیں۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ فیئر ٹرائل کے لیے ملزم کی ذاتی حیثیت میں حاضری ضروری ہے، ہمیں صوبائی حکومت کے نوٹیفکیشن کی کاپی کل ملی ہے، ہم اس کے خلاف ہائی کورٹ جائیں گے۔
عدالت نے وکلاء صفائی سے سوال کیا کہ کیا آپ اس درخواست پر مزید دلائل دینا چاہتے ہیں؟
جس پر وکلاء صفائی نے لیگل ٹیم سے مشاورت کے لیے آدھے گھنٹے کی مہلت مانگ لی، سماعت میں آدھے گھنٹے کا وقفہ دے دیا گیا، عمران خان کو تاحال ویڈیو لنک پر پیش نہیں کیا گیا۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی پنجاب حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق ویڈیو لنک پر ہی پیش ہوں گے۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر ایف آئی اے، پیمرا، پی آئی ڈی، انٹرنل سیکیورٹی اور وزارت داخلہ کے 10 گواہان طلب کرلیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی ویڈیو لنک پر عدالت میں ا نہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔