Jasarat News:
2026-07-24@03:33:45 GMT

غزہ میں دو روزہ تعطل کے بعد انٹرنیٹ اور لینڈ لائن سروس بحال

اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT

غزہ میں دو روزہ تعطل کے بعد انٹرنیٹ اور لینڈ لائن سروس بحال

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ: اسرائیلی حملوں کے باعث دو روز تک معطل رہنے والی انٹرنیٹ اور لینڈ لائن سروسز بالآخر بحال کردی گئیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس  کے مطابق فلسطینی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی (پالتل) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ زمینی صورتحال کی سنگینی کے باوجود کمپنی کی ٹیموں نے غزہ اور شمالی غزہ کی گورنریٹس میں خدمات کی بحالی کو ممکن بنایا۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق فلسطینی ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیٹری اتھارٹی نے اعلان کیا تھا کہ مسلسل اسرائیلی حملوں اور مرکزی شاہراہوں کو پہنچنے والے شدید نقصان کی وجہ سے شمالی غزہ اور غزہ شہر میں لینڈ لائن انٹرنیٹ اور کمیونیکیشن سروسز متاثر ہوئی ہیں،  ان تعطل کی وجہ سے غزہ پٹی مکمل طور پر بیرونی دنیا سے کٹ کر رہ جاتی ہے، جس کا براہِ راست اثر اہم شعبوں پر پڑتا ہے۔

متاثرہ شعبوں میں سول ڈیفنس، ایمبولینس سروسز اور اسپتال شامل ہیں جبکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی تقسیم میں بھی رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں اور روزمرہ زندگی کا نظام مفلوج ہوجاتا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے غزہ پر اپنی مسلسل مہم کے دوران بارہا جان بوجھ کر کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ نیٹ ورکس کو طویل عرصے کے لیے بند کیا ہے جو تقریباً دو برسوں سے جاری ہیں۔ اس پالیسی پر اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بارہا مذمت کی گئی ہے اور اسے ’’خطرناک اور غیراخلاقی قرار دیا گیا ہے، اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے اس عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

یورومیڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں 12 سے زائد بار مکمل کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ بلیک آؤٹ ریکارڈ کیے جاچکے ہیں، تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ ایک منظم پالیسی ہے جس کا مقصد غزہ کو دنیا سے کاٹ دینا اور اسرائیل کے جرائم کو چھپانا ہے۔

خیال ر ہے کہ غزہ میں امریکا اور اسرائیل امداد کے نام پر دراصل دہشت گردی کررہے ہیں جبکہ عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور مسلم حکمران اپنی عیاشیوں میں مگن ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع