پاکستان میں  آئندہ 12 سے 18 ماہ کے دوران  انٹر نیٹ کی رفتار تیز ہونے کا امکان  ہے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے تصدیق کی ہے کہ آئندہ 12 سے 18 ماہ کے دوران پاکستان کو تین نئے سب میرین کیبلز کے ذریعے عالمی نیٹ ورک سے منسلک کیا جائے گا۔وزارت کے حکام کے مطابق نئے سب میرین کیبلز پاکستان کو براہِ راست یورپ سے جوڑیں گی، جس سے موجودہ محدود راستوں پر انحصار کم ہو گا اور ملک کا انٹرنیٹ انفراسٹرکچر مضبوط ہوگا، اس اقدام سے نہ صرف بین الاقوامی کنیکٹیویٹی بہتر ہوگی بلکہ آن لائن خدمات میں رفتار اور معیار میں بھی اضافہ متوقع ہے۔یہ اعلان قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت سید امین الحق نے کی، اجلاس کو بتایا گیا کہ تینوں کیبلز کے معاہدے پہلے ہی طے پا چکے ہیں۔وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے سیکرٹری زرار ہاشم خان نے کہا کہ ان منصوبوں سے بینڈوڈتھ کی گنجائش میں نمایاں اضافہ ہوگا، اور صارفین کے لیے ایک مستحکم اور قابلِ اعتماد انٹرنیٹ سروس کو یقینی بنائیں گے۔کمیٹی کے رکن صادق میمن نے حالیہ انٹرنیٹ مسائل پر سوال اٹھایا جس پر وزارت نے یقین دہانی کرائی کہ نئے سب میرین کیبلز سب میرین کیبل کی آمد سے طویل مدتی کنیکٹیویٹی کے مسائل حل ہوجائیں گے اور آن لائن خدمات میں بہتری آئے گی۔ماہرین کے مطابق یہ کیبل منصوبے پاکستان کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے لیے سنگِ میل ثابت ہوں گے اور ملکی معیشت، ای کامرس اور آن لائن تعلیم میں نئی راہیں کھولیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: میرین کی

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف