پاک سعودیہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے، وزیردفاع
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کے حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے جس کا مقصد دونوں ممالک کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
یہ معاہدہ بدھ کے روز ریاض میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے دستخط سے طے پایا۔ معاہدے کے مطابق کسی بھی ملک پر جارحیت کو دونوں پر جارحیت تصور کیا جائے گا اور اس کا جواب مشترکہ طور پر دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک سعودیہ باہمی تزویراتی دفاعی معاہدہ کسی تیسرے ملک کے خلاف خطرے کے طور پر استعمال نہیں ہوگا، دفتر خارجہ
نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ یہ معاہدہ ایک ’چھتری‘ ہے، جس کے تحت اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوا تو دونوں مل کر جواب دیں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے جس نے 1998 میں ایٹمی تجربات کیے اور اس حیثیت کو کبھی چیلنج نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا ’جو کچھ ہمارے پاس ہے، وہ اس معاہدے کے تحت بالکل دستیاب ہوگا۔‘
وزیر دفاع نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں بلکہ صرف دفاعی نوعیت کا ہے۔
اُنہوں نے کہا ’ہم نے کسی کا نام نہیں لیا، لیکن جو بھی جارحیت کرے گا، اُسے مشترکہ ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ کوئی جارحانہ یا توسیع پسند معاہدہ نہیں بلکہ دفاعی ہے، جیسا کہ امریکا کے بھی دنیا کے کئی ممالک سے ایسے ہی معاہدے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیں: پاک سعودی معاہدے کے نتیجے میں پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہوا، عطا تارڑ
ایک سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ اس معاہدے کے بارے میں امریکا یا کسی تیسرے فریق کو اعتماد میں لینے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ یہ پاکستان اور سعودی عرب کا دوطرفہ حق ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر قبضے کی کوئی نیت نہیں، لیکن اپنی حفاظت ہمارا بنیادی حق ہے۔
سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان نے معاہدے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ’سعودی عرب اور پاکستان کسی بھی جارح کے خلاف ایک محاذ ہمیشہ اور ہمیشہ کے لیے۔‘
ادھر سعودی حکام کے مطابق یہ معاہدہ گزشتہ 2 سے 3 برسوں سے جاری مذاکرات کے نتیجے میں سامنے آیا ہے اور اس کا مقصد مشترکہ دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور خطے میں امن قائم رکھنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، لڑائیوں کا خیال بھی شاید اب نہ آئے
ایک سعودی عہدیدار نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ ’یہ ایک جامع دفاعی معاہدہ ہے جس میں کسی بھی مخصوص خطرے کے تحت تمام دفاعی اور عسکری ذرائع بروئے کار لائے جائیں گے۔‘
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ عالمی طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے اور آنے والے وقتوں میں چین عالمی قیادت سنبھالے گا، اُن کے مطابق دنیا کے لوگ اب چین کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف رواں ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں کریں گے، جن میں سعودی عرب کے ساتھ نئے معاہدے پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔
یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں ایک نیا سنگِ میل ہے بلکہ خطے میں کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی کو بھی مزید مضبوط کرتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاکستان خواجہ آصف دفاعی معاہدہ سعودی عرب وزیر دفاع.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان خواجہ ا صف دفاعی معاہدہ وزیر دفاع دفاعی معاہدہ سعودی عرب کے خواجہ آصف نے معاہدے کے وزیر دفاع یہ معاہدہ پاک سعودی کے مطابق کسی بھی کے خلاف نے کہا یہ بھی کہا کہ
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔