اسلام آباد:

قومی اسمبلی قائمہ مذہبی امور نے کہا ہے کہ عراق اور ایران کی ائیر لائنوں کو پاکستان آنے کی اجازت دیں، پی آئی اے کو کہیں کہ کراچی سے بھی زیارات کیلئے پروازیں چلائے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کا اجلاس رکن کمیٹی شگفتہ جمانی کی صدارت میں ہوا۔ سیکرٹری کمیٹی نے قاعدہ 225 کے تحت تمام اراکین کی رائے سے شگفتہ جمانی کو اجلاس کی صدارت کی دعوت دی۔

شگفتہ جمانی نے کہا کہ کمیٹی کے چیئرمین ملک عامر ڈوگر عمرہ کی ادائیگی کے لیے بیرون ملک ہیں، گزشتہ اجلاس بھی سیلابی صورتحال کے باعث نہیں ہوسکا تھا۔

ایڈیشنل سیکرٹری وزارت مذہبی امور ساجد محمود نے کمیٹی کو بریفنگ دی اور کہا کہ کمیٹی کی ہدایت پر جو عازمین گزشتہ حج پہ ادائیگی کے باوجود نہیں جا سکے انہیں ترجیح دی جا رہی ہے، اب تک 21 ہزار ایسے عازمین رجسٹرڈ ہوچکے ہیں جو گزشتہ برس نہیں جاسکے تھے۔

ایڈیشنل سیکرٹری مذہبی امور نے کہا کہ سعودی عرب نے ہدایت کی ہے صرف فضائی سفر کے ذریعے آنے کی اجازت دی ہے، اس کے باوجود ہم بحری سفر کے ذریعے سفر شروع کرنے کے معاملے پر کام کررہے ہیں، زیارات کیلئے بحری سفر کی کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ روڈ ٹو مکہ منصوبے میں لاہور کو بھی شامل کررہے ہیں، روڈ ٹو مکہ منصوبے کیلئے حاجیوں کی تعدادکم ازکم 40ہزار ہونی چاہیے۔

سکھوں سے متعلق انہوں نے کہا کہ غیرممالک سے آئے سکھ زائرین کو ویزا آن ارائیول دیا جاتا ہے۔

وزیرمملکت کھیل داس کوہستانی نے کہا کہ بھارت نے کرکٹ میچ کھیلنے کی اجازت دی ہے لیکن سکھ یاتریوں کو پاکستان آنے کی اجازت نہیں، بھارت کی جانب سے سکھ یاتریوں کو مذہبی رسومات سے روکنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، سکھ یاتری پہلے بڑی تعداد میں پاکستان آتے تھے، اس مرتبہ بھارت نے اجازت نہیں دی۔ 

اجلاس میں "اقلیتوں کیلئے قومی کمیشن کے قیام" کے بل پر بحث ہوئی۔ وزیر مملکت کھیل داس کوہستانی نے کہا کہ اسی طرح کا بل وزارت انسانی حقوق نے اسمبلی میں بھیجا تھا جو پاس بھی ہوچکا ہے، صدر نے اس بل پر اعتراضات لگا کر بھیجا ہے، یہ بل اب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے پاس ہوگا۔

عامر جیوا نے کہا کہ جب اسمبلی اور سینیٹ سے پاس ہوگیا تھا تو اس کو مشترکہ اجلاس میں لانے کی ضرورت نہیں تھی،  کمیٹی نے بل کو ڈسپوز آف کردیا۔

حکام وزارت مذہبی امور نے کہا کہ زیارات کیلئے 24 کمپنیوں کو وزارت نے این او سی دیا ہے۔

چئیرپرسن کمیٹی نے کہا کہ زیارات کے لیے جانے والی کمپنیوں میں سالار سسٹم چل رہے ہیں، زیارات کیلئے سالار زیادہ تر شیعہ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، آپ نے 24 کمپنیوں کو ہی کیوں چنا ہے؟ سالار سسٹم آپ ختم نہیں کرسکتے، سالار ختم کریں گے تو عمرہ والا حال ہوگا،سالار کا لفظ ختم نہ کریں۔

چئیرپرسن کمیٹی نے کہا کہ پہلے عراق میں لوگ بہت کم جاتے تھے لیکن اب بہت زیادہ لوگ جاتے ہیں، عراق اور ایران کی ائیر لائنوں کو پاکستان آنے کی اجازت دیں، پی آئی اے کو کہیں کہ کراچی سے بھی زیارات کیلئے پروازیں چلائیں۔

چیئرپرسن نے کہا کہ زائرین کو عراق لے جانے کے لیے عراقی ایئرلائن 280 ڈالر میں پاکستان سے عراق جانے کو تیار ہے۔

حکام وزارت مذہبی امور نے کہا کہ ہم عمرہ اور حج کیلئے ٹریننگ کا مرحلہ شروع کررہے ہیں، ہم وہاں موجود کیلئے وزارت کے کاؤنٹرز کو صرف حج کیلئے جنہیں عمرہ کیلئے کھولنے کی کوشش کررہے ہیں، پچھلے سال جس کمپنی کو حاجیوں کا 86ہزار کا کوٹا دیا گیا اس کی گنجائش سعودی عرب میں 10ہزار تھی۔

چئیرپرسن کمیٹی نے کہا کہ پچھلے سال آپ نے حاجیوں کو کھانے کا ٹھیکہ ایک بھارتی کمیٹی کو دیا یہ ٹھیکے سرعام نیلام کریں تاکہ مسابقت کا عمل بڑھے۔

رکن کمیٹی ایم این اے نیلسن عظیم نے کمیٹی میں اظہار خیال میں کہا کہ پورے پاکستان میں اقلیتوں کی ڈویلپمنٹ اسکیمز کیلئے صرف 4 کروڑ روپے رکھے جاتے ہیں،یونیورسٹیز، کالجوں میں داخلوں کیلئے حافظ قرآن کو 20نمبر ملتے ہیں، اقلیتوں کو نہیں ملتے، بطور اقلیتی رکن مجھے وزرات کی جانب سے 76 ہزار روپے اقلیتی لوگوں کو تقسیم کرنے کا کہا گیا، پانچ پانچ ہزار ایسٹر کرسمس سمیت دیگر تہواروں پر اقلیتوں لوگوں میں تقسیم کرنا بہت کم ہے۔

وزیر مملکت کھیل داس کوہستانی نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد اقلیتوں کے فنڈز سے متعلق صوبوں کا اختیار ہے، تمام صوبوں نے اقلیتوں کے لئے وافر فنڈز رکھے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کو پاکستان آنے کی اجازت مذہبی امور نے کہا آنے کی اجازت دی زیارات کیلئے کررہے ہیں نے کہا کہ کمیٹی نے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف