پاکستان میں انٹرنیٹ سست، بحالی میں مزید کتنا وقت لگے گا؟ سیکرٹری آئی ٹی نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
وفاقی سیکرٹری آئی ٹی و ٹیلی کام ضرار ہاشم نے کہا ہےکہ پاکستان آنے والی 2 متاثرہ کیبلز کی بحالی میں مزید 4 سے 5 ہفتے لگ سکتے ہیں۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران ممبر کمیٹی صادق علی میمن نے انٹرنیٹ کی رفتار کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ کہا جارہا ہے3 نئی کیبلز آرہی ہیں، اگر 3 نئی کیبلز آرہی ہیں تو انٹرنیٹ کے مسائل کیوں آرہے ہیں؟اس پر وفاقی سیکرٹری آئی ٹی و ٹیلی کام ضرار ہاشم نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ یمن کے حالات کے باعث صورتحال گھمبیر ہے، 4 سے 5 کیبلز کٹی ہیں۔ضرار ہاشم کے مطابق یمن کے ساحل پر بہت ساری سب میرین کیبل کٹی ہوئی ہیں جب کہ پاکستان کو آنے والی 2 کیبلز متاثر ہوئی ہیں، متاثرہ کیبلز کی بحالی میں4 سے5 ہفتے لگ سکتے ہیں۔وفاقی سیکرٹری کا کہنا تھا کہ کمپنیوں نے بینڈوتھ متبادل روٹس پر منتقل کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔