data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دمشق: شام اور اسرائیل کے درمیان برسوں کی کشیدگی اور خونریز جھڑپوں کے بعد بالآخر مذاکرات کی خبریں سامنے آنے لگی ہیں۔

شام کے عبوری صدر احمد الشرع نے عالمی میڈیا سے گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی کہ آئندہ چند دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان ایک سیکورٹی معاہدہ طے پانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ شام کسی بھی معاہدے میں اپنی فضائی حدود اور علاقائی سالمیت کے تحفظ پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا اور یہ معاہدہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونا لازمی ہے۔

شامی صدر الشرع نے مزید بتایا کہ موجودہ مذاکرات کی بنیاد 1974 کے اُس سیکورٹی معاہدے پر ہے جس نے شام اور اسرائیل کے درمیان سرحدی کشیدگی کو وقتی طور پر کم کیا تھا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت اسرائیل کے زیر قبضہ جولان کی پہاڑیوں پر کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، جنہیں اسرائیل نے 1981 میں غیر قانونی طور پر ضم کر لیا تھا۔

اہم بات یہ ہے کہ شامی صدر نے انکشاف کیا کہ السویدا جھڑپوں سے چند روز قبل دونوں ممالک معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے مگر کشیدگی نے سب کچھ روک دیا۔ شام کی نئی عبوری حکومت کا دعویٰ ہے کہ امریکا اس معاملے میں سہولت کار ہے لیکن براہِ راست دباؤ نہیں ڈال رہا۔

اسرائیل کی جانب سے شام میں حالیہ مہینوں میں ایک ہزار سے زائد فضائی حملے اور سیکڑوں زمینی کارروائیاں کی جا چکی ہیں جن میں دمشق کی وزارتِ دفاع پر بمباری اور السویدا میں دروز ملیشیاؤں کی پشت پناہی بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شامی صدر نے اسرائیلی رویے کو انتہائی خطرناک قرار دیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل شام کے جنوب مغربی حصے میں نو فلائی زون اور غیر عسکری علاقے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس کے بدلے اسرائیل کچھ شامی زمین چھوڑنے پر آمادہ ہے لیکن جبل الشیخ پر اپنی فوجی چوکی برقرار رکھنے پر بضد ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسرائیل کے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل