افغانستان نے بگرام ائربیس کا کنٹرول امریکا کے حوالے کرنے کا امکان سختی سے مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
افغانستان کی عبوری حکومت نے بگرام ائربیس کا کنٹرول امریکا کے حوالے کرنے کا امکان سختی سے مسترد کردیا ہے۔
افغان وزارتِ خارجہ کے اہلکار ذاکر جلالی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ تاریخ گواہ ہے افغانستان نے اپنی سرزمین پر کبھی بیرونی افواج کو قبول نہیں کیا، دوحہ مذاکرات اور اس کے نتیجے میں ہونے والے معاہدے کے دوران بھی اس نوعیت کے کسی امکان کو یکسر رد کردیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بگرام ائربیس چھوڑنا امریکا کے لیے ایک شرمناک لمحہ تھا، ائربیس واپس لینے کے لیے افغانستان سے مذاکرات جاری ہیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ فوجیوں کی تعداد کو پانچ ہزار تک کم کرنے کا فیصلہ انہوں نے خود کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ بگرام بیس اُس مقام سے صرف ایک گھنٹے کے فاصلے پر ہے جہاں چین اپنے جوہری ہتھیار تیار کرتا ہے۔
دوسری جانب چین کا ردعمل بھی سامنے آگیا ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ افغانستان کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں، افغان عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہے۔
چین نے واضح کیا کہ وہ خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی کی حمایت نہیں کرے گا اور چاہتا ہے کہ تمام فریقین علاقائی امن کے لیے تعمیری کردار ادا کریں۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کرنے کا
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز