ڈی جی آئی اے ای اے کی پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کی تعریف
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈی جی رافیل ماریانو گروسی—فائل فوٹو
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈی جی رافیل ماریانو گروسی کا کہنا ہے کہ پاکستان کا نیوکلیئر پاور پروگرام اچھی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے، پُرامن مقاصد کےلیے جوہری سائنس و ٹیکنالوجی کے استعمال میں پاکستان اہم شراکت دار ہے۔
ڈی جی آئی اے ای اے اور چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) کے درمیان ویانا میں آئی اے ای اے کی 69ویں جنرل کانفرنس کے موقع پر ملاقات ہوئی ہے۔
ملاقات کے حوالے سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق ملاقات میں مختلف پروگراموں کے تحت دو طرفہ تعاون کے شعبوں کا جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے ویانا: سفیر پاکستان نے ڈائریکٹر آئی اے ای اے کو اسناد پیش کردیںچیئرمین پی اے ای سی نے پُرامن جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا پُرامن جوہری پروگرام قومی ترقیاتی ترجیحات اور آئی اے ای اے کے فریم ورک کے عین مطابق ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے جوہری پاور پلانٹس اعلیٰ ترین حفاظتی معیارات کے تحت چلائے جا رہے ہیں۔
اس موقع پر ڈی جی آئی اے ای اے نے پاکستان کے آئی اے ای اے سے قریبی تعاون کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ چشمہ نیو کلیئر پاور پلانٹ سی 5 پاکستان کے توانائی کے تحفظ کے لیے اہم سنگِ میل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ا ئی اے ای اے پاکستان کے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔