پاکستان کے جوہری پروگرام کی ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر پذیرائی
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ویانا/ اسلام آباد(صباح نیوز) پاکستان کے پرامن جوہری پروگرام کو ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملی ہے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی(آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل ماریانو گروسی نے پاکستان کی مسلسل پیش رفت اور ایجنسی کے ساتھ قریبی تعاون کو تسلیم کیا۔ ویانا میں آئی اے ای اے کی 69 ویں جنرل کانفرنس کے موقع پر چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ڈاکٹر راجا علی رضا انور سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں مسٹر گروسی نے پاکستان کی سول نیوکلیئر انرجی کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کی کامیابیوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا جوہری توانائی پروگرام اچھی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انھوں نے چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ سی۔5 کا خصوصی ذکرکیا۔ ڈائریکٹر جنرل نے فروری 2025 میں اس منصوبے کے پہلے کنکریٹ ڈالنے کے موقع کو یاد کیا اور اسے پاکستان کی توانائی کے تحفظ کو صاف اور پائیدار ایٹمی بجلی سے مضبوط بنانے میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔