—تصویر بشکریہ پاک فضائیہ 

1965 میں پاک فضائیہ نے بار برداری کے لیے استعمال ہونے والے سی-130 طیاروں کو بطور بمبار طیارہ استعمال کر کے دشمن کو حیران کردیا۔

ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ جاری تھی، پاک فضائیہ کو میدان جنگ میں مکمل فضائی برتری حاصل تھی، لیکن لاہور پر حملہ آور بھارتی فوج بدستور بی آربی کنال کی دوسری جانب مورچہ بند تھی اور لاہور شہر پر مزید حملوں کا خطرہ موجود تھا، دشمن بھاری توپ خانے سے مسلسل لاہور کے دفاع میں موجود ہماری بری فوج پر گولہ باری کر رہا تھا، اس صورتحال میں دشمن کو سبق سکھانے کے لیے پاک فضائیہ نے جارحانہ روش اختیار کی۔

21 ستمبر 1965ء کی شب پاک فضائیہ نے ایک منفرد قدم اٹھاتے ہوئے اپنے سی-130 ٹرانسپورٹ طیاروں کو بطور بمبار استعمال کرنے کا انوکھا فیصلہ کیا، اس سلسلے میں ان جہازوں میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں جس میں ان جہازوں کے پچھلے حصے میں موجود دروازوں کو عارضی طور پر ہٹا دیا گیا تاکہ بھاری گولہ بارود با آسانی دشمن پر گرایا جاسکے۔

یکم ستمبر 1965 کے تاریخی دن جب پاک فضائیہ نے دشمن پر تاریخی غلبہ حاصل کیا

یکم ستمبر 1965 کے تاریخی دن جب پاک فضائیہ کے شہبازوں نے دشمن کے عددی برتری کے غرور کو خاک ملاتے ہوئے اپنی فضائی برتری قائم کی تھی۔

یہ یقیناً ایک پُر خطر مشن تھا، مشن میں شامل پہلا طیارہ فلائٹ لیفٹیننٹ نذیر احمد اور فلائٹ لیفٹیننٹ جاوید حیات ملک جبکہ دوسرا طیارہ ونگ کمانڈر زاہد بٹ اڑا رہے تھے، اس حملے میں شامل سی- 130 ہرکولیس طیاروں نے رات 11 بجے دریائے راوی کو پار کیا اور 8 ہزار فٹ کی بلندی سے 18 ہزار پاؤنڈ وزنی بم دشمن کی پوزیشنز پر گرا دیے، حملہ کامیاب رہا اور دشمن کی 40 عدد بڑی توپیں فوری طور پر خاموش ہوگئیں اور گولہ باری کا سلسلہ فوری طور پر تھم گیا، یہ ایک کامیاب ضرب تھی، جس کو مزید تقویت دینے کے لیے کچھ وقفے کے بعد ایک اور ضرب ونگ کمانڈر زاہد بٹ(جو اس وقت پاک فضائیہ کے 35 ویں ونگ کے کمانڈنگ آفیسر تھے) نے لگائی، گو کہ پچھلے حملے کے بعد اب دشمن زیادہ چوکس ہوچکا تھا اور اب وہاں دشمن کی طیارہ شکن توپیں بھر پور فائرنگ کر رہی تھیں، لیکن ونگ کمانڈر زاہد بٹ نے انکی کوئی پرواہ نہیں کی اور اپنے مشن کو کامیابی سے مکمل کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: پاک فضائیہ نے

پڑھیں:

ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار

اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری