سندھ کی تقسیم کیخلاف عوامی تحریک کی رابطہ مہم میں تیزی
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے نئے صوبوں کے نام پر سندھ کی تقسیم، کالا باغ ڈیم سمیت نئے ڈیمز اور نہروں، کارپوریٹ فارمنگ، پیکا ایکٹ اور دیگر سیاہ قوانین کے خلاف 24 ستمبر 2025 کو حیدرآباد پریس کلب میں عوامی تحریک کی جانب سے منعقدہ کانفرنس کے حوالے سے مختلف سیاسی و سماجی رہنماؤں کو دعوت دینے کا سلسلہ جاری ہے۔عوامی تحریک کے مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کاتیار، مرکزی میڈیا سیکریٹری کاشف ملاح، مرکزی رہنما نور نبی پلیجو اور سارنگ راجا نے عوامی ورکرز پارٹی کے وفاقی سیکریٹری بخشل تھلہو سے قاسم آباد میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور نیشنل پارٹی سندھ کے صدر تاج مری سے جامشورو میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کرکے انہیں 24 ستمبر کو ہونے والی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے عوامی تحریک کے مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کاتیار نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد اب 27ویں آئینی ترمیم کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور امکان ہے کہ 26 ستمبر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں 27ویں ترمیم کا مسودہ پیش کیا جائے گا۔ اس ترمیم کے ذریعے سندھ میں نئے صوبے بنا کر سندھ کی وحدت پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی جس طرح چھ نئی نہروں کے منصوبے میں وفاقی حکومت کی ساتھی بنی ہوئی ہے، اسی طرح اس سندھ دشمن ترمیم میں بھی اس کا ساتھ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھ نئی نہروں کی تلوار سندھ پر لٹک رہی ہے اور اب نئے صوبوں اور 27ویں ترمیم جیسے قوم دشمن منصوبے لائے جا رہے ہیں۔عوامی ورکرز پارٹی کے وفاقی سیکریٹری بخشل تھلہو نے کہا کہ ماحول دشمن منصوبوں کے باعث ملک میں ماحولیاتی تبدیلی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ فارمنگ جیسے کسان دشمن منصوبے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے حکمران کسان اور مزدور دشمن ہیں جو بورڈ آف انویسٹمنٹ امینڈمنٹ ایکٹ 2023ء جیسے محنت کش دشمن سیاہ قوانین بنا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایس آئی ایف سی (SIFC) پورے ملک میں قبضہ گیری اور آمریت کی نئی شکل ہے۔انہوں نے کہا کہ گرین ٹورزم کے نام پر ایس آئی ایف سی گلگت کے عوام کی زمینوں پر قبضہ کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ عوامی تحریک رہی ہے
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔