معرکہ حق کے دوران کمسن مجاہد ارتضیٰ عباس شہید کے عزم و ہمت کی لازوال داستان
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
معرکہ حق میں لائن آف کنٹرول کے باہمت مکینوں نے بھارت کی روایتی بلا اشتعال کاروائیوں کا جواں مردی سے مقابلہ کیا۔
معرکہ حق کے دوران بھارت نے سفاکی اور جنگی جنون میں آکر مقامی آبادیوں کو نشانہ بنانے کی مذموم روش برقرار رکھی جس میں بہت سے کمسن بچوں نے بھی جامِ شہادت نوش کیا۔
انہی کمسن مجاہد بچوں میں کمسن مجاہد ارتضیٰ عباس بھی شہادت کے عظیم مرتبہ پر فائز ہوئے، ارتضیٰ عباس کی شہادت کے وقت ان کے والد، لیفٹیننٹ کرنل ظہیر عباس لائن آف کنٹرول پر دشمن سے نبردآزما تھے۔
کمسن بیٹے کی شہادت کے باوجود اُن کے والد فرض کی ادائیگی اور محاذِجنگ پر دشمن کو بھرپور جواب دینے میں کامیاب رہے۔
ارتضیٰ عباس کی ولولہ انگیز قربانی لائن آف کنٹرول کے بہادر پاکستانیوں کی وطن سے محبت اور جوانمردی کی عکاس ہے، معرکہ حق میں جرأت کے نشان کمسن مجاہد ارتضیٰ عباس کی شہادت نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔
دشمن کی بزدلانہ کارروائیاں لائن آف کنٹرول کے مکینوں کا جذبۂ حب الوطنی اور بڑھاتی ہیں، بلا شبہ پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ مکار دشمن کی مذموم سازشوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنی رہے گی۔
https://www.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کمسن مجاہد معرکہ حق
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔