معرکہ حق کے دوران کمسن مجاہد ارتضیٰ عباس شہید کے عزم و ہمت کی لازوال داستان
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
معرکہ حق میں لائن آف کنٹرول کے باہمت مکینوں نے بھارت کی روایتی بلا اشتعال کاروائیوں کا جواں مردی سے مقابلہ کیا۔
معرکہ حق کے دوران بھارت نے سفاکی اور جنگی جنون میں آکر مقامی آبادیوں کو نشانہ بنانے کی مذموم روش برقرار رکھی جس میں بہت سے کمسن بچوں نے بھی جامِ شہادت نوش کیا۔
انہی کمسن مجاہد بچوں میں کمسن مجاہد ارتضیٰ عباس بھی شہادت کے عظیم مرتبہ پر فائز ہوئے، ارتضیٰ عباس کی شہادت کے وقت ان کے والد، لیفٹیننٹ کرنل ظہیر عباس لائن آف کنٹرول پر دشمن سے نبردآزما تھے۔
کمسن بیٹے کی شہادت کے باوجود اُن کے والد فرض کی ادائیگی اور محاذِجنگ پر دشمن کو بھرپور جواب دینے میں کامیاب رہے۔
ارتضیٰ عباس کی ولولہ انگیز قربانی لائن آف کنٹرول کے بہادر پاکستانیوں کی وطن سے محبت اور جوانمردی کی عکاس ہے، معرکہ حق میں جرأت کے نشان کمسن مجاہد ارتضیٰ عباس کی شہادت نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔
دشمن کی بزدلانہ کارروائیاں لائن آف کنٹرول کے مکینوں کا جذبۂ حب الوطنی اور بڑھاتی ہیں، بلا شبہ پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ مکار دشمن کی مذموم سازشوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنی رہے گی۔
https://www.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کمسن مجاہد معرکہ حق
پڑھیں:
200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا
انہدامی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرز کے ذریعہ انجام دی گئی، یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی، جسکو مسمار کئے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹادیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر وارانسی میں گزشتہ شب مودی حکومت نے 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مسمار کر دیا اور ساتھ ہی وہاں موجود مزار اور قبرستان کے کچھ حصہ کو بھی منہدم کر دیا گیا۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ مسجد کو منہدم کرنے کی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرز کے ذریعہ انجام دی گئی۔ یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی، جس کو مسمار کئے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ یعنی بدھ کی صبح جب لوگ اس جگہ سے گزرے تو مسجد اور مزار کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔
ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ کل دیر شب تقریباً 12 بجے انتظامیہ کے اعلیٰ افسران 1000 سے زائد جوانوں کے ساتھ "از غیب شہید مسجد" کے پاس پہنچے اور علاقہ کا معائنہ کیا۔ ڈی سی پی کاشی گورو بنسوال اور اے ڈی سی پی ویبھو بانگر نے مسجد کے چاروں طرف بیریکیڈنگ کروائی اور لوگوں کی آمد و رفت پر روک لگا دی گئی۔ حتیٰ کہ میڈیا اہلکاروں کو بھی اس جگہ پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ رات کی تاریکی میں خاموشی کے ساتھ یہ کام ہوا اور جب تک مسجد منہدم ہونے کی خبر لوگوں تک پہنچی، ملبہ بھی وہاں سے ہٹایا جا چکا تھا۔
انتظامیہ نے مسجد منہدم کرنے کے لئے رات کی تاریکی کا انتخاب کرنے کی کوئی آفیشیل وجہ نہیں بتائی۔ پولیس اہلکاروں نے یہ ضرور کہا کہ ٹریفک سے بچنے کے لئے رات میں کارروائی کی گئی۔ راج گھاٹ واقع کاشی ریلوے اسٹیشن کے احاطہ میں موجود اس مسجد کو منہدم کرنے سے پہلے اے سی پی شیوہری مینا نے افسروں کے ساتھ پہنچ کر جائزہ لیا تھا۔ بعد ازاں سخت سیکورٹی میں مزار اور اس کے قریب بنی مسجد کو مسمار کر دیا گیا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق بھدؤ چنگی واقع قلعہ کوہنا علاقہ میں "از غیب شہید کی مسجد اور قبرستان کئی سالوں سے تنازعہ کا شکار رہا۔
مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ مسجد 200 سال قدیم تھی۔ مسجد کے متولی شمیم استاد تھے، جن کا 2 ماہ قبل انتقال ہو چکا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ریلوے کی پرانی زمین ہے، جس پر کچھ لوگوں نے ناجائز قبضہ کر پہلے مزار بنائی، اور بعد میں مسجد و قبرستان کی تعمیر کی گئی۔ 2024ء میں کاشی ماڈل ریلوے اسٹیشن کا منصوبہ سامنے آیا، جس کے بعد زمین کی پیمائش کرائی گئی اور مسجد کی تعمیر ناجائز قبضہ والی زمین پر ہونے کا پتہ چلا۔ از غیب شہید مسجد کی انہدامی کارروائی سے متعلق رپورٹ "این ڈی ٹی وی" پر بھی شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس جگہ ایک ہنومان مندر بھی تھا، اسے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔