data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) سندھیانی تحریک کی مرکزی صدر عمرہ سموں، مرکزی جنرل سکرٹری ڈاکٹر ماروی سندھُو، مرکزی رہنما حسنا راہوجو اور ایڈووکیٹ سورٹھ منگنھار نے اپنے مشترکہ پریس بیان میں کہا ہے کہ 2022ء سے سعودی عرب میں ایچ پی وی ویکسینیشن جاری ہے، جبکہ ملائیشیا، انڈونیشیا اور بنگلا دیش سمیت زیادہ تر مسلم ممالک یہ ویکسین باقاعدگی سے لگوا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں یہ کوئی پہلی ویکسین نہیں ہے، اس سے قبل بھی 12 بیماریوں سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے جاتے رہے ہیں، لیکن یہاں کچھ انتہاپسند گروہ جھوٹ اور نفرت پر مبنی تقاریر کر کے سندھ کو صدیوں پیچھے دھکیل رہے ہیں اور ایچ پی وی ویکسینیشن کے بارے میں جھوٹی معلومات پھیلا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جنرل ضیا الحق کی جانب سے بویا گیا انتہاپسندی اور جہالت کا بیج آج ایک بڑے درخت میں تبدیل ہو گیا ہے۔ جنرل ضیاالحق نے امریکہ سے ڈالر لے کر نہ صرف افغانستان میں بلکہ سندھ میں بھی طالبان پیدا کیے، جن کی ذہنیت آج بھی معاشرے کو زہر دے رہی ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ حکومتی نااہلی کے باعث ایچ پی وی ویکسینیشن مہم 100 فیصد ہدف حاصل کرنے کے بجائے صرف 60 فیصد ٹارگٹ تک پہنچ سکی ہے۔ اگر حکومت پیکا ایکٹ جیسے سیاہ قوانین لا کر میڈیا کو قید کرنے کے بجائے میڈیا لٹریسی پر توجہ دیتی تو آج یہ مہم فیک نیوز کا شکار نہ ہوتی۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے میڈیا پر پابندیاں عائد کر کے، میڈیا کے اشتہارات بند کر کے اور اخباری صنعت کو مفلوج کر کے، ریسرچ پر مبنی رپورٹس کو عام کرنے کے عمل کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں چند ٹک ٹاکرز اور سوشل میڈیا صارفین اپنی ویوز بڑھانے کے لیے جھوٹی معلومات پھیلا رہے ہیں۔رہنماؤں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت، خاص طور پر تعلیم اور اطلاعات کے محکمے کی نااہلی کی وجہ سے لاکھوں طالبات ایچ پی وی ویکسینیشن سے محروم رہ گئی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایچ پی وی ویکسینیشن رہے ہیں کہا کہ

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت کا سرکاری ترجمانوں سے متعلق قانون سازی کا فیصلہ
  • اسلام آباد کچہری میں سموسے کیساتھ چٹنی نہ ملنے پر ہنگامہ
  • ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • کراچی میں ہواؤں کی رفتار کم ہوگئی، درجہ حرارت بڑھنے کا امکان
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری