کاٹز اس سلسلے میں اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ہم آہنگی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امریکیوں نے اتوار کو مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ دیا، یہ [مذاکرات] کی دعوت نہیں تھی بلکہ ایرانیوں کو اسرائیلی حملوں سے غافل رکھنے اور دھوکا دینے کی ایک چال تھی۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی ٹی وی چینل 13 نے فلسطین پر قابض صیہونی حکومت اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بارے میں ایک دستاویزی فلم تیار کی ہے اور اسے حال ہی میں نشر کیا ہے۔ اس دستاویزی فلم میں اسرائیلی حکام اور ماہرین نے ایران کے ساتھ جنگ ​​میں صیہونی حکومت کے طریقہ کار اور صیہونی رہنماؤں کے درمیان ہونے والی چند ملاقاتوں کی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔ اس دستاویزی فلم میں ایک قابل ذکر بیان اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کا ہے، جو مذاکرات کو ایران کو دھوکہ دینے کے کھیل سے تعبیر کرتا ہے۔

کاٹز اس سلسلے میں اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ہم آہنگی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امریکیوں نے اتوار کو مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ دیا، یہ [مذاکرات] کی دعوت نہیں تھی بلکہ ایرانیوں کو اسرائیلی حملوں سے غافل رکھنے اور دھوکا دینے کی ایک چال تھی۔ اسرائیلی ماہرین میں سے ایک اور نے بھی اپنے تبصرے کہا کہ اس کا مقصد یہ تھا کہ بات چیت کے بارے میں معمول کے حالات جاری رہنے بارے میں ایرانیوں میں امید کا احساس  برقرار رکھا جائے۔

اس سے قبل امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے بھی امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے مذاکرات کے بہانے دھوکہ دینے کے بارے میں خبر دی تھی۔ وال سٹریٹ جرنل نے لکھا کہ امریکی اور اسرائیلی حکام نے جان بوجھ کر میڈیا میں خبریں شائع کیں تاکہ یہ محسوس ہو کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ایران کے بارے میں بہت سے اختلافات ہیں۔ لیکن حقیقت میں امریکی صدر کو اسرائیلی حملوں کا اس وقت بھی مکمل علم تھا، جب وہ اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں سفارت کاری کی بات کر رہے تھے۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے یروشلم پوسٹ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ سینٹ کام کو مذاکرات کے ساتھ ہی ایران پر حملہ کرنے کے اسرائیل کے ارادے سے آگاہ کیا تھا، اور ایران امریکہ مذاکرات کے پانچویں دور سے ایک دن پہلے، اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کرنے کے لیے مشترکہ فوجی مشقیں بھی کی تھیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ مذاکرات سے جنگ کو ٹالا نہیں جا سکتا، مذاکرات اصولی طور پر نہ صرف سرپرائز دینے کا ایک حربہ ہوتے ہیں بلکہ فوجی حملے کا حصہ بھی ہوتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے بارے میں کے درمیان

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم