ہم ہرگز غزہ کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، یمنی وزیراعظم کے مشیر
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
اپنے ایک جاری بیان میں حمید عبدالقادر عنتر کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو اپنی جارحیت کے نتائج بھگتنا ہوں گے اور ایسے ہی عالمی برادری کو غزہ کے حوالے سے اپنی ذمے داریوں پر عمل کرنا چاہئے۔ اسلام ٹائمز۔ یمنی وزیراعظم کے مشیر "حمید عبدالقادر عنتر" نے کہا کہ صیہونی رژیم کی جانب سے غزہ کی پٹی کے حمایتی محاذ کو ناکام بنانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک صیہونی رژیم، فلسطینی عوام کے خلاف اپنے جرائم جاری رکھے گی اس وقت تک یمن، غزہ کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ انہوں نے اس امر کی وضاحت کی کہ اسرائیل کو اپنی جارحیت کے نتائج بھگتنا ہوں گے اور ایسے ہی عالمی برادری کو غزہ کے حوالے سے اپنی ذمے داریوں پر عمل کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کا دفاع، یمن کا بنیادی مسئلہ ہے۔ حمید عبدالقادر عنتر نے زور دے کر کہا کہ صہیونی رژیم کی غزہ کی پٹی کے محاصرے اور وہاں کی عوام پر جارحیت کے سلسلے سمیت استقامتی محاذ کے عزم کو نقصان پہنچانے و کمزور کرنے کی تمام تر کوششیں یقینی طور پر ناکام ہو جائیں گی۔ اسے کسی صورت بھی کامیابی نہیں مل سکے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔