ودہولڈنگ ٹیکس کو غیرشرعی قرار دینے کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل بیان سے پیچھے ہٹ گئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
اسلام آباد:ودہولڈنگ ٹیکس کو غیر شرعی قرار دینے کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل اپنے بیان سے پیچھے ہٹ گئی۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے پہلے اعلامیے میں رقم منتقلی یا نکالنے پر ودہولڈنگ ٹیکس کو زیادتی اور غیرشرعی قرار دیا تاہم کچھ دیر بعد کونسل نے ود ہولڈنگ ٹیکس پر وضاحت جاری کردی۔
کونسل نے تصحیح نامہ کے عنوان وضاحت جاری کی ہے جس میں کہا ہے کہ آج کے اجلاس کے حوالے سے یہ تاثر سامنے آیا ہے کہ کونسل نے ود ہولڈنگ ٹیکس کے بارے میں حتمی رائے قائم کر لی ہے، حقیقتاً چند اراکین نے اس پر ابتدائی بحث کی اور جس میں اراکین کے آراء مختلف تھیں۔
وضاحت میں کہا گیا ہے کہ اراکین نے اس پر اگلے اجلاس میں ماہرین سے مشاورت کر نے کا کہا، چنانچہ فیصلہ ہوا تھا کہ کونسل کے آئندہ اجلاس میں اس پر سیرحاصل بحث کی جائے اور متعلقہ ماہرین سے رائے لی جائے، زیرِ بحث مسئلے پر کونسل کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔