سعودی عرب اور 12 ممالک کا بڑا اعلان: فلسطینی اتھارٹی کے لیے ہنگامی مالیاتی اتحاد قائم
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
سعودی عرب کے ساتھ بلجیم، ڈنمارک، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، جاپان، ناروے، سلووینیا، اسپین، سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ نے فلسطینی اتھارٹی کے لیے ہنگامی مالیاتی اتحاد کے قیام کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:فلسطینیوں کے حق میں احتجاج سے خطاب کرنے پر امریکا نے کولمبیا کے صدر کا ویزا منسوخ کردیا
یہ اتحاد اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ فلسطینی اتھارٹی کے شدید مالی بحران کو کم کیا جا سکے، اس کے مالی معاملات مستحکم رہیں، حکومت عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرتی رہے اور امن قائم رہے۔ یہ سب کچھ خطے کے استحکام اور دو ریاستی حل کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ صرف عارضی امداد کافی نہیں، بلکہ مستقل اور منظم تعاون کی ضرورت ہے۔ اتحاد عالمی مالیاتی اداروں اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر شفاف اور پائیدار طریقے سے وسائل فراہم کرے گا اور جاری اصلاحات میں مدد دے گا۔
یہ بھی پڑھیں:فرانس سمیت مزید 6 ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلیا
انہوں نے اسرائیل سے کہا کہ فلسطینی محصولات کی رقوم فوری طور پر جاری کرے اور ایسے اقدامات بند کرے جو فلسطینی اتھارٹی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ان کے مطابق ایسی رکاوٹیں نہ صرف فلسطینی عوام اور اداروں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔
مزید کہا گیا کہ یہ اتحاد سب کے لیے کھلا ہے اور ہر ملک یا ادارہ اس میں شامل ہو سکتا ہے، کیونکہ فلسطینی اتھارٹی کو مضبوط بنانا دراصل پورے خطے کے امن اور استحکام میں سرمایہ کاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سعودی عرب فلسطین مالیاتی اتحاد مالیتی فنڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فلسطین مالیاتی اتحاد مالیتی فنڈ فلسطینی اتھارٹی کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی