ہم تباہی کے دہانے پر موجود ، تمام ادارے مکمل طور پر تباہ ہو چکے،اعظم سواتی
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 ستمبر2025ء)پی ٹی آئی رہنما اعظم خان سواتی نے کہاہے کہ ملک کے تمام ادارے مکمل طور پرتباہ ہوچکے ہیں،عدالتیں حق اور انصاف کے مطابق فیصلے دیں اور ہماری لیڈرشپ کو انصاف فراہم کریں۔
(جاری ہے)
راولپنڈی میں انسداد دہشتگردی عدالت کے باہرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم خان سواتی نے کہا کہ انسداد دہشتگردی عدالت میں میرے خلاف پچیس سے تیس کیسز بنائے گئے۔
انہوں نے سوال اٹھایاکہ کیا بانی پی ٹی آئی کوئی دہشتگرد ہیں ،فیصلہ سازوں کواب سوچنا ہوگاکہ یہ ملک ہے تو ہم سب ہیں،ہم تباہی کے دہانے پرموجود ہیں،تمام ادارے مکمل طورپرتباہ ہوچکے ہیں،مجھ پراب تک ایک سوچارکیسز بنائے جاچکے ہیں۔انہوںنے کہاکہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کوتکلیف میں رکھا گیا ہے،ایسے ملک نہیں چلتے،ملک انصاف اور محبت سے چلتے ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔