پاک-سعودی دفاعی معاہدے کی وجہ قطر پر اسرائیلی حملہ نہیں، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
پاک-سعودی دفاعی معاہدے کی وجہ قطر پر اسرائیلی حملہ نہیں، خواجہ آصف WhatsAppFacebookTwitter 0 27 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حال ہی میں طے پانے والا پاک۔سعودی دفاعی معاہدہ دراصل دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو ’باضابطہ شکل‘ دیتا ہے، جو اس سے پہلے کچھ ٹرانزیکشنز کی بنیاد پر تھے۔
تفصیلات کے مطابق زیٹیو پلیٹ فارم پر نشر ہونے والے انٹریو میں خواجہ آصف نے صحافی مہدی حسن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاک-سعودی دفاعی معاہدے سے متعلق کہا ’قطر میں جو کچھ ہوا یہ اس کا ردعمل نہیں ہے کیونکہ اس پر کافی عرصے سے بات چیت جاری تھی۔
یاد رہے کہ 17 ستمبر کو وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ریاض میں ایک ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ پر دستخط کیے، جس کے تحت یہ طے پایا کہ کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی جانب سے قطر پر حملے کے پس منظر میں ہونے والے حالیہ عرب سربراہی اجلاس نے اجتماعی سلامتی کے رجحان کا عندیہ دیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ معاہدہ موجودہ عالمی حالات سے جڑا ہوا ہے اور دونوں ممالک کے دفاعی خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔
دوسری جانب، اس معاہدے کو پاک-بھارت کشیدہ تعلقات اور ایران-اسرائیل جنگ کی وجہ سے بھی دیکھا جارہا ہے جب مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان مخصر جھڑپ ہوئی جب کہ جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ لڑی گئی۔.
اس سے قبل، خواجہ آصف نے اشارہ دیا تھا کہ پاکستان کی جوہری صلاحیتیں اس نئے فریم ورک کے تحت ریاض کو دستیاب ہو سکتی ہیں۔
تاہم بعد میں ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جوہری ہتھیار اس معاہدے کا حصہ نہیں ہیں اور یہ ’ایجنڈے پر نہیں ہیں‘۔
زیٹیو کی ویب سائٹ پر جمعہ کی شب جاری کیے گئے پری ویو میں مہدی حسن نے آصف سے دفاعی معاہدے کے بارے میں سوال کیا ’یہ معاہدہ قطر پر اسرائیلی بمباری کا ردعمل ہے یا نہیں‘؟
خواجہ آصف نے جواب دیا ’قطر میں جو کچھ ہوا یہ معاہدہ اس کا ردعمل نہیں ہے کیونکہ اس پر کافی عرصے سے بات چیت جاری تھی، البتہ اس حملے نے شاید اس عمل کو کچھ تیز کر دیا ہو لیکن اس پر پہلےسے بات چیت جاری تھی‘۔
میزبان نے نشاندہی کی کہ پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے اور سعودی عرب نے دوسری ایٹمی طاقت بننے میں دلچسپی ظاہر کی تھی، انہوں نے یہ بھی کہا کہ خواجہ آصف پہلے ہی یہ بیان دے چکے ہیں کہ جوہری ہتھیار اس معاہدے کے لیے ’ایجنڈے پر نہیں ہیں‘۔
انہوں نے سوال کیا ’کیا اس معاہدے کے تحت سعودی عرب نے پاکستان کو ایٹمی تحفظ فراہم کیا‘؟
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ہمارا سعودی عرب کے ساتھ طویل دفاعی تعلق ہے جو 5 سے 6 دہائیوں پر محیط ہے، وہاں ہماری فوجی موجودگی رہی ہے، شاید عروج پر 4 سے 5 ہزار سے زائد اہلکار تھے اور اب بھی وہاں فوجی موجودگی ہے۔
میرا خیال ہے کہ ہم نے اس تعلق کو باضابطہ شکل دے دی ہے جو اس سے قبل کچھ کچھ ٹرانزیکشنز کی بنیاد پر تھے۔
مہدی حسن نے پوچھا ’یہ باضابطہ شکل جوہری ہتھیاروں کے ساتھ یا ان کے بغیر‘؟
وفاقی وزیر جواب دیا کہ میں تفصیلات میں جانے سے گریز کروں گا لیکن یہ ایک دفاعی معاہدہ ہے اور دفاعی معاہدوں پر عموماً عوامی سطح پر بات نہیں کی جاتی۔
اس موقع پر میزبان نے نشاندہی کی کہ صحافی باب ووڈورڈ نے اپنی 2024 کی کتاب ’وار‘ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا یہ حوالہ دیا تھا کہ انہوں نے ایک امریکی سینیٹر سے کہا کہ وہ ’پاکستان سے بم خرید سکتے ہیں‘۔
خواجہ آصف نے کہا ’میرا خیال ہے کہ یہ بات محض سنسنی خیزی ہے اور میں اس بیان کو درست نہیں سمجھتا‘۔
حسن نے پوچھا ’تو آپ سعودی عرب کو جوہری ہتھیار فروخت کرنے کے کاروبار میں شامل نہیں ہیں‘۔
خواجہ آصف نے جواب دیا ’نہیں، ہم بہت ذمہ دار لوگ ہیں‘۔
پاک-چین تعلقات
مہدی حسن نے وزیر دفاع سے پوچھا کہ آیا امریکا کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات اس کے چین کے ساتھ اہم تعلقات کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں کیوں امریکا اور چین ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہیں؟
خواجہ آصف نے جواب دیا کہ نہیں، ہمیں اس بارے میں کوئی تشویش نہیں کیونکہ یہ چین کے ساتھ ایک آزمودہ تعلق ہے جو 50 کی دہائی کے اواخر سے قائم ہے۔
میزبان نے مزید پوچھا کہ آپ کا مستقبل چین کے ساتھ ہے یا امریکا کے ساتھ؟ یہ دونوں کے ساتھ نہیں ہو سکتا۔”
خواجہ آصف نے جواب دیا کہ چین پاکستان کے لیے ایک ’بہت قابل اعتماد اتحادی‘ رہا ہے اور ہمارے ہتھیاروں کا ایک بڑا حصہ چین سے آتا ہے، ہمارا دفاعی تعاون بڑھ رہا ہے، یہ پہلے کی نسبت کہیں زیادہ مضبوط ہے۔
حسن نے پھر سوال کیا ’تو آپ بنیادی طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ کا تزویراتی مستقبل چین کے ساتھ ہے، امریکا کے ساتھ نہیں‘؟
آصف نے جواب دیا ’جی ہاں، وہ قابل اعتماد ہیں اور ہمارے ہمسایہ ہیں، ہم سرحدیں اور جغرافیہ شیئر کرتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمتنازع ٹویٹ کیس میں اعظم سواتی پر فرد جرم عائد، ملزم کا صحت جرم سے انکار متنازع ٹویٹ کیس میں اعظم سواتی پر فرد جرم عائد، ملزم کا صحت جرم سے انکار جی ایچ کیو حملہ کیس: عمران خان کی ٹرائل روکنے کی درخواست خارج والد میرے سیاست میں آنے پر ہچکچاہٹ کا شکار تھے، یقین ہے آج مجھ پر فخر کرتے ہوں گے: مریم نواز سی پیک فیز 2 کا باقاعدہ آغاز، پاک چین شراکت داری تاریخی مرحلے میں داخل بھارت دہشتگردوں کی مالی و عسکری سرپرستی، کشمیر میں ظلم چھپا نہیں سکتا: پاکستان اقوام متحدہ اجلاس؛ وزیر دفاع کے پیچھے بیٹھی خاتون سے متعلق دفتر خارجہ کی وضاحتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: خواجہ ا صف نے جواب دیا پاک سعودی دفاعی دفاعی معاہدے چین کے ساتھ یہ معاہدہ وزیر دفاع اس معاہدے نہیں ہیں انہوں نے ہے اور کہا کہ سے بات
پڑھیں:
گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
سکردو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کی ترقی مسلم لیگ (ن) کی اولین ترجیح ہے اور انہیں ملک کے دیگر صوبوں کی طرح مکمل آئینی اور بنیادی حقوق ملنے چاہئیں۔(جاری ہے)
جی بی ای-8 سکردو-2 میں انتخابی مہم کے سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار حاجی اکبر تابان کی رہائش گاہ پر پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آ کر عوام کی محرومیاں ختم کرے گی اور گلگت بلتستان کے حقوق کیلئے پارلیمنٹ میں مؤثر آواز اٹھائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور خطے میں بجلی کے نئے منصوبے متعارف کرائے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، پاکستان کے قیام کا جو مقصد تھا، اسے پورا کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہے اور بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز کو ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔خواجہ سعد رفیق نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست الزام تراشی نہیں بلکہ دلیل، خدمت اور عوامی ترقی کی سیاست ہے۔