چیئرمین پی سی بی کا 0-6 کا اشارہ کرنے پرحارث رؤف پرعائد جرمانہ خود اداکرنےکا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے فیصلہ کیا ہےکہ وہ ایشیا کپ 2025 میں بھارت کے خلاف میچ کے دوران 0-6 کا اشارہ کرنے پر آئی سی سی کی جانب سے حارث رؤف پر عائد جرمانہ خود ادا کریں گے۔خیال رہےکہ ایشیا کپ میں 21 ستمبر کو بھارت کے خلاف میچ میں صاحبزادہ فرحان نے ففٹی اسکور کرنے کے بعد خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بلےکو بناوٹی گن بنا کر فائر کرنےکا اشارہ کیا تھا۔ان کے علاوہ فاسٹ بولر حارث رؤف نے میچ کے دوران وکٹ لینے کے بعد اور باؤنڈری لائن کے قریب فیلڈنگ کرتے ہوئے بھارتی تماشائیوں کی ہوٹنگ کا جواب دیتے ہوئے طیارہ تباہ ہونے کا اشارہ کیا تھا۔بھارتی کرکٹ بورڈ اور فینز کو پاکستان سے میچ جیتنے کے باوجود حارث رؤف اور صاحبزادہ فرحان کا انداز ایک آنکھ نہ بھایا اور بھارت نے پاکستانی کرکٹرز کے خلاف آئی سی سی میں شکایت درج کرائی تھی۔بھارت کی جانب سے آئی سی سی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزامات کا جواب دینےکے لیے قومی کرکٹر حارث رؤف اور صاحبزادہ فرحان میچ ریفری کے روبرو پیش ہوئے تھے۔کرکٹ ویب سائٹ کے مطابق میچ ریفری نے حارث رؤف کو آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ان پر میچ فیس کا 30 فیصد جرمانہ عائدکیا جب کہ صاحبزادہ فرحان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی اور انہیں وارننگ دی ہے۔ذرائع کے مطابق محسن نقوی نےکہا ہےکہ حارث رؤف پر عائد جرمانےکی رقم وہ اپنی جیب سے ادا کریں گے۔آئی سی سی نے 14 ستمبر کو ایشیا کپ میں پاک بھارت میچ کے بعد پریزنٹیشن میں متازع گفتگو پر بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو کو بھی قصور وار قرار دے کر میچ فیس کا 30 فیصد جرمانہ عائد
کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔