اختلاف جتنا ہو اتنا رکھنا چاہئے‘ صورتحال خراب نہیں کرنا چاہتے: قمر کائرہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
لاہور،کراچی (نامہ نگار+نوائے وقت رپورٹ + آئی این پی) پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ ملک کو کوئی ایک لیڈر یا ادارہ نہیں چلا سکتا۔ یہ ملک کسی ایک کا نہیں ہم سب کا ہے۔ ہمیں اسے نیرو نیشنلزم سے بچانا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیپلز سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں عثمان ملک، چودھری اسلم گل، فیصل میر، رانا جواد، ڈاکٹر خیام حفیظ اور عمران سرویا کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ہم نے اقتدار میں شیئر لیے بغیر اس حکومت کو سپورٹ کیا۔ موجودہ ملکی حالات کے پیش نظر صورت حال خراب کرنا چاہتے تھے نہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے بغیر کسی احسان کے قانون سازی سمیت تمام بحرانوں میں حکومت کا ساتھ دیا، لیکن اس کا مطلب قطعاً یہ نہیں کہ ن لیگ کو بلینک چیک دیدیا ہے۔ ایک طرف پیپلز پارٹی اور دوسری طرف حکومت پنجاب ہے۔ انہیں پنجاب میں سپورٹ نہیں چاہیے ہو گی مگر خواہش ہے کہ ماضی کی تلخیوں کو بھلایا جائے۔ اپنے ساتھیوں اور پنجاب حکومت سے کہتا ہوں کہ دلیل سے آراء دیں، وہ لہجہ استعمال نہ کریں جو ماضی میں ہوتا رہا۔ سیلاب سے بہت قیمتی نقصانات ہوئے ہیں، جس میں سارا ملک یک زبان ہے۔ جہاں غلط ہو گا بتائیں گے اور اس پر احتجاج بھی کریں گے۔ اگر ہم تجویز دیتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ پنجاب پر انگلی اٹھائی ہے اور اس تنقید کو پنجاب پر حملہ کہہ دیتے ہیں۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اختلاف جتنا ہو اسے اتنا رکھنا چاہیے۔ سارے صوبوں کو قومی مالیاتی ایوارڈ میں آبادی کے مطابق پیسے نہیں ملتے۔ پنجاب نے کے پی کے‘ فاٹا اور بلوچستان کو اپنے ایوارڈ سے رقم دی۔ ہم تو سیلاب پر بات کر رہے تھے آپ سندھ پر چڑھ دوڑے۔ پنجاب حکومت اپنا ترجمان میرے ساتھ بھیجے ہم دکھاتے ہیں کہ سندھ میں کیا ترقی ہوئی ہے۔ فلسطین کے مستقبل کے سوال پر قمر زمان کائرہ نے کہا کہ فلسطینی مسلمانوں کیساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ فلسطین کا حکومت نے اکیلے فیصلہ نہیں کیا۔ 8اسلامی ممالک نے مشاورت کی۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے کہا بیان بازی کا سلسلہ کافی دنوں سے جاری تھا جو اب بڑھ گیا۔ حکومتیں ایسے نہیں چلتیں کہ میرا پیسہ اور میرا پانی۔ چیئرمین بلاول بھٹو نے مریم نواز کی تعریف کی اس پر ہمیں اعتراض تھا۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی بات کرتے ہیں تو سامنے سے گولہ باری ہوتی ہے۔ ہمارے رہنما پنجاب کے حالات بتا رہے ہیں سیاست نہیں کر رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں آپ کس طرح لوگوں کی مدد کر رہے ہیں؟۔ آپ 10 لاکھ دینا چاتی ہیں تو بی آئی ایس پی سے 10 لاکھ ہی دے دیں۔ پروگرام کا نام بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے تو آپ استعمال کرنا نہیں چاہتیں۔ دوسری جانب مریم نواز شریف کے بیان پر سندھ بار کونسل کی کال پر صوبے میں وکلا نے ہڑتال کی۔ وکلانے عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا اور عدالتوں میں پیش نہ ہوئے جس پر سائلین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سندھ بارکونسل کی جانب سے صوبہ سندھ کے خلاف تضحیک آمیز ریمارکس پر معافی کا مطالبہ ع کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: قمر زمان کائرہ نے کہا
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔