خود صحافی رہا ہوں، پریس کلب پر پولیس دھاوے کی انکوائری کررہے ہیں، آئی جی اسلام آباد
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
اسلام آباد:
آئی جی اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ میں خود صحافی رہا ہوں، پریس کلب پر پولیس دھاوے کی انکوائری کررہے ہیں۔
میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس کی جانب سے صحافیوں پر تشدد کے واقعے پر آئی جی اسلام آباد نے تحقیقات کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کے واقعے کی ہم مکمل انکوائری کر رہے ہیں۔
آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ صحافیوں کی عزت اور تکریم میرے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ میں خود بھی صحافی رہ چکا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس سلسلے میں تمام صحافتی تنظیموں سے رابطے میں ہیں۔
ایک صحافی کے سوال پر کہ پولیس کو تشدد کی اجازت کس نے دی، آئی جی اسلام آباد نے جواب دیا کہ انکوائری ٹیم سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھ کر اس معاملے کی تہہ تک پہنچے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آئی جی اسلام آباد
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔