گریٹا تھنبرگ کو اسرائیل سے ڈی پورٹ کرکے یونان بھیجنے کی تیاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
معروف سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کو اسرائیل سے پیر کے روز ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔ وہ اس وقت ایک حراستی مرکز میں قید ہیں جہاں انہیں مبینہ طور پر ناقص سہولیات اور بدبودار کھٹمل زدہ کمروں میں رہنے کی شکایت سامنے آئی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق گریٹا تھنبرگ کو 27 یونانی کارکنوں کے ساتھ ایلات کے رامون ایئرپورٹ سے ایتھنز بھیجا جائے گا۔ یہ تمام کارکن اس گلوبل صمود فلوٹیلا کا حصہ تھے جس میں 42 کشتیوں پر سوار 450 سے زائد رضاکار غزہ کے لیے امدادی سامان لے جا رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ میں 60 فلسطینی شہید،’گرفتار گریٹا تھنبرگ سمیت 12 سرگرم کارکن ملک بدر کیے جائیں گے‘
اسرائیلی بحریہ نے جمعرات کے روز فلوٹیلا کو بحیرہ روم میں روک کر درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا۔ اب تک تقریباً 170 کارکنوں کو ان کے وطن واپس بھیجا جا چکا ہے۔
گریٹا تھنبرگ نے سویڈش حکام کو بتایا کہ انہیں قید کے دوران پانی اور خوراک کی کمی، سخت سلوک اور ناقص ماحول کا سامنا رہا، حتیٰ کہ کھٹملوں کے باعث جسم پر دانے بھی نکل آئے ہیں۔ تاہم اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے ان الزامات کو بے بنیاد اور جھوٹ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ تمام قیدیوں کو قانونی حقوق فراہم کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: فلسطینیوں کے حق میں بات کرنے پر ایک شخص کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ سے مائیک چیھننے کی کوشش
یہ بھی دعویٰ سامنے آیا ہے کہ تھنبرگ کو جیل میں اسرائیلی جھنڈے تھام کر تصاویر کے لیے مجبور کیا گیا، لیکن اسرائیلی حکام نے اس بیان کی بھی تردید کی ہے۔
یاد رہے کہ گریٹا تھنبرگ جون میں بھی ایک فلوٹیلا مشن میں شریک ہوئی تھیں جسے اسرائیلی بحریہ نے غزہ پہنچنے سے قبل ہی روک دیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل غزہ فلسطین فلوٹیلا گریٹا تھنبرگ ماحولیات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل فلسطین فلوٹیلا گریٹا تھنبرگ ماحولیات گریٹا تھنبرگ تھنبرگ کو
پڑھیں:
نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد جنگ بندی کے باوجود عام شہری مسلسل جانیں گنوا رہے ہیں، اس لیے غزہ کے عوام کی طویل اذیت کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری طویل انسانی المیے کا خاتمہ ہونا چاہیے، کیونکہ نام نہاد جنگ بندی کے باوجود وہاں کے شہری آج بھی ہر روز بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔
Despite the so-called ceasefire in Gaza, civilians continue to pay a heavy price every day.
People are being killed in their homes, in their communities, and while carrying out ordinary acts of daily life – as Israel increases its control of Gaza.
Living conditions remain…
— António Guterres (@antonioguterres) July 23, 2026
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا، غزہ میں نام نہاد جنگ بندی کے باوجود عام شہری روزانہ شدید نقصان اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کیے جانے کے دوران لوگ اپنے گھروں، اپنی آبادیوں اور روزمرہ زندگی کے معمولات انجام دیتے ہوئے بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے اقوام متحدہ غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے میں ناکام رہی، پاکستان
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے زور دیا کہ غزہ کے عوام کی مسلسل اور طویل تکالیف کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں