سپیشل برانچ پنجاب میں بھرتی کے خواہشمند افراد کیلئے خوشخبری
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
عرفان ملک: سپیشل برانچ پنجاب میں بھرتیوں پرعائدپابندی میں نرمی کی سمری تیار کرلی گئی۔
انٹیلی جنس اورٹیکِنیکل کیڈرمیں بھرتی کی اجازت کیلئےکابینہ سےمنظوری طلب کی گئی، پنجاب پولیس کی جانب سےگریڈ14سے گریڈ17کی بھرتیوں کی اجازت مانگی گئی۔
بھرتیاں سپیشل برانچ کےٹیکِنیکل کیڈراور انٹیلی جنس کیڈرکی منظورشدہ آسامیوں پرہونگی، آسامیوں پر بھرتی 2020 کے رولز کے تحت رکی ہوئی تھی۔
کوئٹہ اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے
کابینہ سےمنظوری کےبعدسپیشل برانچ رولز2020میں ترمیم کےبعدبھرتی کی راہ ہموارہو گی۔
انٹیلی جنس کیڈرمیں خفیہ معلومات جمع کرنےوالاعملہ شامل ہو گا، ٹیکِنیکل کیڈرمیں سسٹم آپریٹرزٹیکنیِکل افسران اورسپروائزرزکی بھرتی تجویزکی گئی، سپیشل برانچ میں جدیدسکیورٹی وانٹیلی جنس نظام کومضبوط بنانے کیلئےاقدامات کیےگئے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سپیشل برانچ
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔