اسلام آباد:

بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ 2 کیس میں استغاثہ کے آخری گواہ پر جرح مکمل کر لی گئی، عدالت نے 342 کے تحت ملزمان کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا آخری موقع دے دیا۔

توشہ خانہ 2 کیس کی سماعت اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں کی، بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عدالت پیش کیا گیا۔

ملزمان عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 342 کے تحت سوالنامے فراہم کر دیے گیے، جس پر آئندہ سماعت پر جواب طلب کیا گیا ہے۔

عمران خان کے وکیل قوسین فیصل مفتی نے استغاثہ کے آخری گواہ محسن ہارون پر جرح مکمل کی۔ پراسیکیوشن نے عدالت کو شہادت مکمل ہونے پر تحریری طور پر آگاہ کر دیا۔

عدالت نے 342 کے تحت سوالنامہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو دے دیا، دونوں کو دیے گئے سوالناموں میں 29، 29 سوالات ہیں۔ 342 کے تحت ملزمان کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا آخری موقع دے دیا گیا اور عدالت نے ملزمان کو اپنے دفاع میں گواہ پیش کرنے کا بھی موقع دیا۔

وکلاء صفائی 8 اکتوبر کو 342 کے تحت سوالنامے کے جوابات جمع کروائیں گے۔ عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلاء کو ملزمان سے صلاح مشورے کا بھی موقع دے دیا ہے۔

سماعت کے دوران سینیٹر علی ظفر، سینیٹر مشال یوسف ذئی، بیرسٹر سلمان اکرم راجا، کے پی حکومت کے مشیر بیرسٹر سیف اور عمران خان کی تینوں بہنیں بھی عدالت میں موجود تھیں۔

وفاقی پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی اور بلال بٹ جبکہ اسپیشل پراسیکیوٹر بیرسٹر عمیر مجید اور شہروز گیلانی بھی عدالت میں موجود تھے۔ کیس کی مزید سماعت 8 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عمران خان اور بشری عدالت نے بی بی کو کرنے کا دے دیا کے تحت

پڑھیں:

کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم

— فائل فوٹو 

سندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔

عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔

عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔

کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔

اصل ملزمان کو بچانے کیلئے اسسٹنٹ ایکسائز افسر کو نامزد کیا گیا، وکیل

کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...

جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری