توشہ خانہ 2 کیس؛ عدالت کا عمران خان، بشریٰ بی بی کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا آخری موقع
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ 2 کیس میں استغاثہ کے آخری گواہ پر جرح مکمل کر لی گئی، عدالت نے 342 کے تحت ملزمان کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا آخری موقع دے دیا۔
توشہ خانہ 2 کیس کی سماعت اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں کی، بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عدالت پیش کیا گیا۔
ملزمان عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 342 کے تحت سوالنامے فراہم کر دیے گیے، جس پر آئندہ سماعت پر جواب طلب کیا گیا ہے۔
عمران خان کے وکیل قوسین فیصل مفتی نے استغاثہ کے آخری گواہ محسن ہارون پر جرح مکمل کی۔ پراسیکیوشن نے عدالت کو شہادت مکمل ہونے پر تحریری طور پر آگاہ کر دیا۔
عدالت نے 342 کے تحت سوالنامہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو دے دیا، دونوں کو دیے گئے سوالناموں میں 29، 29 سوالات ہیں۔ 342 کے تحت ملزمان کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا آخری موقع دے دیا گیا اور عدالت نے ملزمان کو اپنے دفاع میں گواہ پیش کرنے کا بھی موقع دیا۔
وکلاء صفائی 8 اکتوبر کو 342 کے تحت سوالنامے کے جوابات جمع کروائیں گے۔ عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلاء کو ملزمان سے صلاح مشورے کا بھی موقع دے دیا ہے۔
سماعت کے دوران سینیٹر علی ظفر، سینیٹر مشال یوسف ذئی، بیرسٹر سلمان اکرم راجا، کے پی حکومت کے مشیر بیرسٹر سیف اور عمران خان کی تینوں بہنیں بھی عدالت میں موجود تھیں۔
وفاقی پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی اور بلال بٹ جبکہ اسپیشل پراسیکیوٹر بیرسٹر عمیر مجید اور شہروز گیلانی بھی عدالت میں موجود تھے۔ کیس کی مزید سماعت 8 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عمران خان اور بشری عدالت نے بی بی کو کرنے کا دے دیا کے تحت
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔