اب وقت آ گیا ہے کہ روایتی فصلوں سے آگے بڑھ کر زیادہ منافع بخش فصلوں کی طرف توجہ دی جائے، احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر برائے منصوبہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ روایتی فصلوں سے آگے بڑھ کر زیادہ منافع بخش فصلوں کی طرف توجہ دی جائے، خصوصاً کینولا جیسی فصلوں پر جو کسانوں کے لیے بہتر آمدنی اور منڈی میں زیادہ طلب رکھتی ہیں۔کابینہ کمیٹی برائے زراعت اور ماحولیاتی/ سیلابی ہنگامی حالات کا پہلا اجلاس وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، یہ کمیٹی وزیرِ اعظم کی ہدایت پر قائم کی گئی ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ کسانوں کو قلیل، درمیانی اور طویل المدتی ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، ان کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ متاثرہ کسانوں کو فوری معاوضہ اور آئندہ ربیع سیزن کے لیے مدد فراہم کریں۔وزیرِ منصوبہ بندی نے اس بات پر زور دیا کہ کسانوں کو آئندہ 15 دنوں میں کینولا بیج فراہم کیا جائے تاکہ سیلاب کے بعد زمین میں موجود نمی سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ نارووال میں 5 ہزار ایکڑ پر مشتمل کینولا پائلٹ پروجیکٹ کارپوریٹ اسپانسرشپ کے تحت شروع کیا گیا ہے، کیونکہ اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔
آئندہ خطبہ جمعہ میں مکانات اور فلیٹوں کے مالکان کو احساس دلائیں کہ وہ کرایوں میں غیرمعمولی اضافے سےکرائے داروں پر اضافی بوجھ نہ ڈالیں، سعودی حکومت کی ہدایت
احسن اقبال نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ روایتی فصلوں سے آگے بڑھ کر زیادہ منافع بخش فصلوں کی طرف توجہ دی جائے، خصوصاً کینولا جیسی فصلوں پر جو کسانوں کے لیے بہتر آمدنی اور منڈی میں زیادہ طلب رکھتی ہیں۔انہوں نے مالیاتی اداروں کے ذریعے کسانوں کے لیے بلاسود قرضہ اسکیمیں بڑھانے اور موسمیاتی خطرات سے بچاؤ کے لیے نجی انشورنس نظام کی تدریجی شمولیت پر بھی زور دیا۔وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ تین خصوصی ٹاسک فورسز تشکیل دی جائیں جو متعلقہ وفاقی وزارتوں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد 15 دن میں تفصیلی رپورٹس تیار کریں، ان رپورٹس میں شامل ہوں گے، فوری زرعی امداد اور بیجوں کی فراہمی، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور مزاحمتی حکمتِ عملیاں، انفرااسٹرکچر کو موسمیاتی لحاظ سے مضبوط بنانے کے اقدامات۔
عمران خان کے خلاف 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کا جیل ٹرائل بحال کر دیا گیا
رپورٹ کے مطابق یہ رپورٹس وزیرِ اعظم کو حتمی منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی۔احسن اقبال نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب وقتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک مستقل حقیقت بن چکی ہے، بارشیں، خشک سالی اور دیگر موسمیاتی جھٹکے ہمارے ماحول کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس لیے ہمیں ایک طویل المدتی پالیسی فریم ورک تشکیل دینا ہوگا تاکہ خوراک کے تحفظ، لچک اور پائیدار زرعی معیشت کو یقینی بنایا جا سکے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: احسن اقبال نے کہا وفاقی وزیر گیا ہے کے لیے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔