اسلام آباد:

سیکریٹری جنرل مسلم ورلڈ لیگ ڈاکٹر محمد بن الکریم سپریم کورٹ پہنچ گئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے سیکریٹری جنرل مسلم ورلڈ لیگ کا استقبال کیا، سیکریٹری جنرل مسلم ورلڈ لیگ بین المذاہب ہم آہنگی اور بنیادی حقوق سے متعلق تقریب سے خطاب کریں گے۔

سپریم کورٹ میں بین المذاہب ہم آہنگی اور بنیادی حقوق سے متعلق سمپوزیم آج ہوگا، مسلم ورلڈ لیگ کے سیکریٹری جنرل محمد بن الکریم العیسی سمپوزیم میں شریک ہوں گے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ ججز سمیت قانونی ماہرین بھی سپموزیم میں شرکت کریں گے۔

چیف جسٹس پاکستان یحیی آفریدی نے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ مہمان خصوصی اور تمام معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہتا ہوں، باہمی احترام، بنیادی حقوق اور انصاف سب کیلئے کے موضوع پر اکٹھے ہوئے ہیں، اس تقریب میں میرے دو استاد جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی اور جسٹس (ر) محمد بن الکریم العیسی بھی شریک ہیں، محمد بن الکریم العیسی سعودی عرب کی عدلیہ کے سربراہ بھی رہے ہیں۔

انہوں ںے کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی اور بنیادی حقوق کسی بھی معاشرے کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، اسلام کا پیغام برداشت اور رواداری کا ہے، قانون کی حکمرانی سب ہر لازم ہے، میری دعا ہے کہ یہ سمپوزیم ہمیں اس معاشرے میں لے جائے جہاں قانون کی حکمرانی ہو، آج کی تقریب آئین میں دئیے گئے بنیادی حقوق سے استفادہ فراہم کرنے کا موقع دے گی۔

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سیکریٹری جنرل مسلم ورلڈ لیگ محمد بن الکریم بنیادی حقوق سپریم کورٹ

پڑھیں:

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: 3 طلاق سمیت کوئی بھی طلاق 90 دن مکمل ہونے تک مؤثر نہیں

سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ تین طلاق یا کسی بھی طلاق کا اطلاق تب تک مؤثر نہیں ہوگا جب تک کہ 90 دن کی قانونی مدت پوری نہ ہو جائے۔
عدالت کے فیصلے میں جسٹس محمد شفیع صدیقی نے لکھا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس کی دفعہ 7 کے تحت طلاق کے لیے 90 روزہ انتظار لازمی ہے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر خاوند نے بیوی کو بلا شرط طلاق کا حق دیا ہے تو بیوی کو بھی طلاق واپس لینے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔
یہ فیصلہ محمد حسن سلطان کی سول پٹیشن کے سلسلے میں آیا، جس میں سندھ ہائی کورٹ کے 7 اکتوبر 2024 کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا۔
واقعے کی تفصیل کے مطابق فریقین کی شادی 2016 میں ہوئی تھی اور نکاح نامے کی شق 18 کے تحت بیوی کو طلاق کا حق تفویض کیا گیا تھا۔ بیوی نے 3 جولائی 2023 کو دفعہ 7(1) کے تحت نوٹس جاری کیا لیکن 10 اگست 2023 کو 90 دن مکمل ہونے سے پہلے طلاق واپس لے لی، جس کے بعد یونین کونسل/ثالثی کونسل نے طلاق کی کارروائی ختم کر دی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق، قانون کے تحت بیوی کو دیا گیا حقِ طلاق “بلا شرط” اور مکمل ہے، مگر 90 دن کی قانونی مدت مکمل ہونے سے پہلے طلاق کا اطلاق مؤثر نہیں ہوتا۔

متعلقہ مضامین

  • طلاق 90 روز کی مدت پوری ہونے تک مؤثر نہیں ہوسکتی: سپریم کورٹ
  • سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: 3 طلاق سمیت کوئی بھی طلاق 90 دن مکمل ہونے تک مؤثر نہیں
  • طلاق 90دن کی مدت پوری ہونے تک موثر نہیں ہوسکتی، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ
  • پولیس تشدد اور ماورائے عدالت قتل ہرگز جائز نہیں، سپریم کورٹ
  • سپریم کورٹ: آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری
  • زیر حراست ملزمان پر پولیس تشدد اور ماورائے عدالت قتل پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ
  • 90 دن کی مدت پوری کیے بغیر طلاق نافذ نہیں ہو سکتی، سپریم کورٹ کا فیصلہ
  • طلاق اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک 90 دن کی مدت پوری نہ ہو جائے: سپریم کورٹ
  • طلاق 90 روز کی مدت پوری ہونے تک مؤثر نہیں ہوسکتی: سپریم کورٹ
  • سپریم کورٹ: موسم سرما کی تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری