سیلاب متاثرین کیلئے دنیا کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
—فائل فوٹو
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کے لیے دنیا کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے اور نہ ہی کسی سے امداد مانگی۔
اوکاڑہ میں سیلاب متاثرین میں فلڈ کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دیگر جگہ سیلاب آتا ہے تو لوگ پورا سال رونا دھونا کرتے ہیں، ہم نے کوئی رونا دھونا نہیں کیا۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ہر موقع پر حوصلہ بڑھایا، شاباش دی، گزشتہ روز ہونے والی ملاقات میں شہباز شریف نے کہا کہ آپ نے سیلاب سے نمٹنے کے لیے بڑی محنت کی، میں نے ان کو کہا کہ یہ سب آپ سے اور نواز شریف سے سیکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب سے ہوئے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے 70 فیصد سروے مکمل کر لیا ہے، کرپشن کے راستے بند کر دیے ہیں۔
مریم نواز نے سیلاب متاثرین میں چیکس بھی تقسیم کیے اور کہا کہ سیلاب متاثرین کے لیے مختص 100 ارب متاثرین کو ہی ملیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سیلاب متاثرین مریم نواز نے کہا کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔