شرح سود کو ایک بار پھر برقرار رکھنے کے فیصلے سے مایوسی ہوئی، عاطف اکرام شیخ
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
شرح سود کو ایک بار پھر برقرار رکھنے کے فیصلے سے مایوسی ہوئی، عاطف اکرام شیخ WhatsAppFacebookTwitter 0 27 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ شرح سود کو ایک بار پھر 11فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ، شرح سود کو برقرار رکھنے سے کاروباری ماحول شدید متاثر ہو گا۔
پیر کو اپنے ایک بیان میں شرح سود برقر ار رکھنے کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ 11فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے ، مہنگائی کے تناسب سے شرح سود کو زیادہ سے زیادہ 6 سے 7 فیصد پر ہونا چاہیے، شرح سود میں کمی سے حکومتی قرضوں میں 3500 ارب روپے کمی کا امکان تھا۔
عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستان میں شرح سود خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ ہے، کاروبار کی بہتری کیلئے شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں ہونا چاہیے، شرح سود اگر سنگل ڈیجٹ میں ہوتی تو پیداواری لاگت کم ہوتی، پیداواری لاگت میں کمی سے مہنگائی میں کمی آتی ہے ، شرح سود زیادہ رکھنا کرنسی سرکولیشن کو متاثر کرتا ہے، شرح سود کو برقرار رکھنے سے کاروباری ماحول شدید متاثر ہو گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسٹیٹ بینک کا نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 11فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ اسٹیٹ بینک کا نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 11فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ پاکستان اور بنگلہ دیش کا دفاعی اور سیکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق آزادی کی آواز بلند کرنے والے کشمیر ی آج بھی بھارتی جیلوں میں قید ہیں ،امیر مقام پاکستان کا بھارت سے ملنے والی فضائی حدود 2 روز کیلئے بند کرنے کا فیصلہ بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے لیے دریا پر بند باندھنے کا مرحلہ مکمل پمز ہسپتال میں سینئرڈاکٹر کا زیر تربیت ڈاکٹر پر بدترین تشددCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: 11فیصد پر برقرار رکھنے رکھنے کے فیصلے عاطف اکرام شیخ شرح سود کو کا فیصلہ
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ