ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام نافذ
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان سے سفر کرنے والے لاکھوں مسافروں کے لیے خوش خبری سامنے آئی ہے، پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کے نفاذ کا آغاز کردیا۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے حکومت پاکستان کی ہدایات اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اقدام کے تحت ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کے نفاذ پر عمل شروع کردیا۔
ہوائی اڈوں پر موجود تمام تجارتی مراکز اور سروس فراہم کرنے والوں کو ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو اپنانے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔
یہ اقدام مسافروں کے لیے سہولت، شفاف لین دین اور جدید مالی نظام کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا، مسافر نئے نظام کو اپنانے کے ساتھ ساتھ نقد ادائیگی بھی کرسکیں گے تاہم ڈیجیٹل ادائیگی کے طریقے اختیار کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈیجیٹل ادائیگی کے ہوائی اڈوں پر
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔