مجوزہ ترمیم پر پیپلزپارٹی اورحکومت میں ڈیڈلاک، وفاقی کابینہ کا اجلاس ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251108-01-17
اسلام آباد /کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک /صباح نیوز /اسٹاف رپورٹر) پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیان 27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر گزشتہ روز بھی ڈیڈ لاک برقرار رہا۔ ذرائع کے مطابق کابینہ کا اجلاس 27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری کے لیے بلایا گیا تھا جس میں آئینی ترمیم کے مسودے پر بریفنگ دی جانی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی اتحادیوں کا 27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر تاحال اتفاق رائے نہیں ہوسکا جب کہ پیپلز پارٹی نے حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے۔ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ق) سمیت دیگر اتحادیوں نے گرین سگنل دیدیا تاہم پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیان 27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے معاملے پرکابینہ کا اجلاس آج صبح 10 بجے طلب کرلیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم باکو سے بذریعہ وڈیو لنک وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کریں گے‘ حکومت نے پیپلزپارٹی کی آئینی ترامیم کے حوالے سے تجاویز قبول کرلی ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ میں 27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری دی جائے گی۔دوسری جانب اپوزیشن 27 ویں ترمیم کا مسودہ مسترد کرچکی ہے، سینیٹ کی اپوزیشن جماعتوں نے اپنے اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیے میں کہا ہے کہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتیں قانون سازی کو بلڈوز کر رہی ہیں، آئینی ترمیم کا مسودہ اپوزیشن سے چھپایا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ آئینی عدالت، آرٹیکل243 اور ججز تبادلوں پر اتفاق رائے موجود ہے‘ صدر پاکستان کے اختیارات پر کوئی اثر نہیں آرہا‘ سول بالادستی پر بھی کوئی اثر نہیں آئے گا۔ انہوں نے یہ بات جمعے کی شب پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے اجلاس کے بعد بلاول ہائوس میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 243 پر حکومت کی حمایت کریں گے، آئینی عدالت کے حق میں ہیں، میثاق جمہوریت میں شامل دیگر نکات پر بھی بات ہونی چاہیے۔ بلاول نے کہا کہ جہاں تک دہری شہریت ، الیکشن کمیشن اور دیگر معاملات کا تعلق ہے تو اس پر ہماری پارٹی کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہوسکا، تو اتفاق رائے تک ہم آئینی ترمیم کے بقیہ نکات کی حمایت نہیں کرسکتے‘ این ایف سی کے تحت صوبوں کا شیئر بڑھ سکتاہے، کم نہیں ہوسکتا، اس کا تحفظ پیپلزپارٹی کرے گی‘ پیپلز پارٹی بلدیاتی انتخابات کو ترجیح دیتی ہے‘ تین چار نکات پر اتفاق ہے۔ ادھر27 ویں ترمیم اتحادیوں میں اختلاف کے باعث سینیٹ میں پیش نہ ہوسکی‘27 ویں آئینی ترمیم پیش کرنے کے لیے سینیٹ اجلاس چھٹی کے دن ہفتے کو بھی طلب کرلیا گیا ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ویں ا ئینی ترمیم کے مسودے ا ئینی ترمیم کے مسودے پر ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اتفاق رائے پارٹی اور
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :