اجتماع عام ملت کی بیداری کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جماعت ِ اسلامی پاکستان کا کل پاکستان اجتماعِ عام 21 تا 23 نومبر مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہو رہا ہے۔ یہ اجتماع نہ صرف ایک سیاسی یا تنظیمی سرگرمی ہے بلکہ ایک فکری، تربیتی اور نظریاتی تحریک کا تسلسل ہے۔ مقصد یہ ہے کہ قوم کو اس کے اصل نظریہ، اسلام کے عادلانہ نظام، اور اتحاد و یکجہتی کی راہ پر واپس لایا جائے۔ یہ اجتماع دراصل ملت ِ اسلامیہ کو درپیش فکری، اخلاقی اور معاشرتی چیلنجز کے مقابلے میں بیداری اور اتحاد پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ امت کو انتشار سے نکال کر وحدتِ ملت کی طرف بلانے کا پیغام اس اجتماع کا بنیادی محرک ہے۔ جماعت ِ اسلامی کا مؤقف ہے کہ قومی ترقی صرف اس وقت ممکن ہے جب معاشرہ ایمان، عدل اور اخلاق کی بنیادوں پر استوار ہو۔
پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ جماعت ِ اسلامی اس مقصد کی تجدید کرتے ہوئے قرآن و سنت کی بالادستی پر مبنی ایک منصفانہ اور صالح نظامِ زندگی کے قیام کی جدوجہد کر رہی ہے۔ اجتماعِ عام کے ذریعے اسلامی نظام کے خدوخال عوام کے سامنے پیش کیے جائیں گے تاکہ لوگ اسلام کو مکمل ضابطہ ٔ حیات کے طور پر سمجھ سکیں۔ اس اجتماع کا ایک نمایاں مقصد سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے افکار سے عوام کو روشناس کرانا ہے۔ مودودیؒ کی فکر کا محور یہی ہے کہ دین محض عبادات یا ذاتی نیکی تک محدود نہیں بلکہ معاشرت، معیشت اور سیاست کے ہر شعبے پر محیط ہے۔ جماعت ِ اسلامی اسی فکر کو عملی جدوجہد میں ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اجتماع میں ملک کے سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کا حل اسلامی اصولوں کی روشنی میں پیش کیا جائے گا۔ رہنماؤں کے مطابق ملک میں بدعنوانی، ناانصافی اور بے روزگاری جیسے مسائل کا مستقل حل صرف اس وقت ممکن ہے جب نظامِ حکومت قرآن و سنت کی بنیادوں پر قائم ہو۔ یہ اجتماع اصلاحِ معاشرہ اور کردار سازی کی تحریک بھی ہے۔ نوجوانوں، طلبہ، علما اور خواتین کو اس پیغام سے روشناس کرانا کہ تبدیلی صرف اخلاقی و روحانی تربیت سے ممکن ہے۔ جماعت ِ اسلامی صالح قیادت کی تیاری کو قومی بقا کا ضامن سمجھتی ہے۔ اس اجتماع کا ایک نمایاں پہلو تمام مکاتب ِ فکر اور مذہبی اقلیتوں کو دعوتِ شمولیت دینا ہے۔ جماعت ِ اسلامی نے ہمیشہ ہم آہنگی، رواداری اور باہمی احترام کا پیغام دیا ہے۔ یہی رویہ ایک پرامن اور مستحکم پاکستان کی ضمانت بن سکتا ہے۔
علاوہ ازیں، اجتماعِ عام میں ملک کے روشن مستقبل کا لائحہ عمل پیش کیا جائے گا۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے اجتماعی جدوجہد اور اصولی قیادت ناگزیر ہے۔ اجتماع کے ذریعے عوام میں دعوتِ دین، خدمت ِ خلق اور سماجی شعور بیدار کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ ہر شہری اپنی ذمے داری پہچانے اور ملک کی تعمیر میں کردار ادا کرے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ جماعت ِ اسلامی کا یہ اجتماع دراصل ایک اصلاحی اور فکری تحریک کی تجدید ہے۔ یہ امید، ایمان اور عمل کا پیغام ہے۔ ایک ایسے پاکستان کے لیے جو عدل، دیانت اور امن کی بنیاد پر ایک حقیقی اسلامی ریاست بن سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یہ اجتماع
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں