Jasarat News:
2026-07-24@01:44:37 GMT

ریلوے میں بوگیوں کی شدید کمی سے ٹرین آپریشن متاثر

اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251212-01-21

 

لاہور (آن لائن) ریلوے حکام کو ملک بھر میں ٹرین آپریشن برقرار رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ ریلوے کے نظام میں بوگیوں کی مجموعی کمی 385 تک پہنچ گئی ہے۔ بوگیوں کی قلت کے باعث متعدد ٹرینیں شارٹ کمپوزیشن کے ساتھ چلائی جا رہی ہیں، جس سے ٹرینوں کی روانگی اور وقت کی پابندی دونوں متاثر ہو رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق ریلوے نے مختلف ٹرینوں کے ریک سے مجموعی طور پر 45 بوگیاں نکال کر کم کی ہوئی کمپوزیشن کے ساتھ ٹرینیں چلانا شروع کر دی ہیں، جبکہ حیران کن طور پر 135 بوگیاں سالانہ مینٹی ننس کے بغیر ہی ٹریک پر دوڑائی جا رہی ہیں، جس پر مسافروں کی سیکیورٹی سے متعلق سوالات اٹھنے لگے ہیں۔بوگیوں کی کمی کے باعث لاہور اور کراچی اسٹیشنوں پر لازمی طور پر موجود 34 بوگیوں کے اضافی ریک بھی ختم کر دیے گئے ہیں، جبکہ ریلوے کے پاس مختلف کیٹیگریز میں صرف 24 اضافی بوگیاں باقی رہ گئی ہیں، جو ایک بڑے سسٹم کے لیے ناکافی ہیں۔ادھر ریلوے ورکشاپس میں 503 بوگیاں مرمت اور بحالی کے لیے طویل عرصے سے منتظر ہیں۔ فنڈز کی کمی، مستحکم پالیسیوں کا فقدان اور افسران کے غیر ضروری بار بار تبادلے مرمتی عمل میں بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں، جس کا براہِ راست اثر ٹرین آپریشن پر پڑ رہا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق ریلوے کو معمول کے مطابق ٹرین آپریشن چلانے کے لیے کم از کم 1,464 بوگیوں کی ضرورت ہے، مگر اس وقت سسٹم میں صرف 1,079 فعال بوگیاں موجود ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بوگیوں کی کمی سے روزانہ کی روانگی، وقت کی پابندی اور مسافر لوڈ شدید متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ فوری طور پر بوگیوں کی بحالی اور نئی بوگیوں کی خریداری ناگزیر ہو چکی ہے۔

 

خبر ایجنسی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بوگیوں کی

پڑھیں:

موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل

لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ