تھائی وزیراعظم نے اچانک پارلیمان تحلیل کردی
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251213-06-20
بنکاک (انٹرنیشنل ڈیسک) تھائی لینڈ کے وزیراعظم انوتن چرن وراکل نے کمبوڈیا کے ساتھ سرحدی جھڑپوں میں اضافے اور حکومتی دباؤ بڑھنے کے بعد پارلیمان تحلیل کردی۔ خبررساں اداروں کے مطابق وزیراعظم نے شاہی فرمان پڑھ کر پارلیمان کی تحلیل کا اعلان کیا اور کہا کہ تمام مسائل کے حل کی واحد راہ سیاسی اختیار کو عوام کے سپرد کرنا ہے۔انوتن چرن وراکل نے صرف 3ماہ قبل حکومت سنبھالی تھی، تاہم ان کی اقلیتی حکومت کو سرحدی کشیدگی، گزشتہ ماہ آنے والے سنگین سیلاب اور اپوزیشن کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک کے خطرے جیسے مسائل کا سامنا تھا۔یاد رہے کہ وزیراعظم نے عہدہ سنبھالتے ہی کہا تھا کہ وہ جنوری 2026 کے آخر تک پارلیمان تحلیل کر دیں گے، تاہم خراب ملکی حالات کے پیشِ نظر انہوں نے یہ فیصلہ قبل از وقت کر لیا۔انوتن چرن وراکل سے قبل وزیراعظم پائیتونترانگ شیناوترے کو اخلاقی ضابطے کی خلاف ورزی پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا، جب وہ کمبوڈیا کے سابق رہنما ہون سونگ کو انکل کہہ کر مخاطب کرتی پائی گئی تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔