اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )قائمہ کمیٹی اجلاس میں اداروں کی نجکاری اور ملنے والی بولیوں سے متعلق چیئرمین کمیٹی فاروق ستار نے سو باتوں کی ایک بات کردی۔
 نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے چیئرمین فاروق ستار کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں سیکرٹری نجکاری کمیشن نے بتایا کہ ایچ بی ایف سی کے حتمی معاہدے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے، اب نجکاری بورڈ اور کابینہ کمیٹی سے منظوری لی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ہاو¿س بلڈنگ فنانس کارپوریشن کی خریداری میں دلچسپی رکھنے والی پارٹی نے اہم شرائط پر اتفاق کر لیا ہے۔ایچ بی ایف سی کی نجکاری بورڈ اور کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کی منظوری کے بعد خریدار کو قیمت کے تعین کا کہا جائے گا۔ شرح سود میں کمی کے باعث مستقبل میں گھروں کے لئے فنانسنگ کی سہولت میں اضافے کا امکان ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایچ بی ایف سی کی حتمی ٹرم اینڈ کنڈیشنز کو کمیٹی کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے۔ رکن کمیٹی خواجہ شیراز محمود نے استفسار کیا کہ نجکاری میں صرف ایک ہی بولی دہندہ کیوں رہ جاتا ہے۔ کیا حکومت نجکاری کے معاملے میں سنجیدہ ہے یا صرف نمائشی کارکردگی دکھائی جا رہی ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری میں جگ ہنسائی کے بعد اب ایچ بی ایف سی کے لئے ایک ہی بولی دہندہ ہے۔
سیکرٹری نجکاری کمیشن نے بتایا کہ ایچ بی ایف سی کی نجکاری میں شرکت کے لئے شرائط سخت تھیں۔ آخر تک 2بولی دہندہ رہ گئے تھے تاہم ایک سٹیٹ بینک کی شرائط پورا نہ کر سکا۔
رکن کمیٹی سحر کامران نے پوچھا کہ پی آئی اے کی نجکاری پر کتنے اخراجات آئے؟ اس کا ذمے دار کون ہے؟ نجکاری کمیشن کی اپنی ذمے داری کیا ہے۔ خواجہ شیراز محمود نے پوچھا کہ نجکاری کے طریقہ کار میں
 کوئی خامی تھی جس کے باعث نجکاری نہیں ہو پا رہی؟۔
چیئرمین کمیٹی فاروق ستار نے اس موقع پر کہا کہ ”ہمیں یوسف بننے میں وقت لگے گا، تب ہی مول لگے گا“۔ 
فاروق ستار نے کہا کہ پی آئی اے کے مالیاتی مشیر ارنسٹ اینڈ ینگ کی کارکردگی کیسی رہی یہ دیکھنا بھی ضروری ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری میں کتنا خرچہ ہوا۔ اس موقع پر سیکرٹری نجکاری کمیشن نے کہا کہ میں فوری طور پر اخراجات کا نہیں بتا سکتا، بعد میں تمام معلومات فراہم کر دیں گے۔

پڑوسن سے لڑائی، بے رحم ہمسائے  نے 28 پالتو کبوتروں کو بے دردی سے قتل کر دیا

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: نجکاری کمیشن نجکاری میں کی نجکاری

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پنجاب و سندھ خریداری کا ہدف حاصل کیوں نہ کرسکے، مزمل اسلم
  • برطانوی ہائی کمیشن میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی تقریب
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش