کراچی میں 12جنوری کو سی ویو روڈ پر’’غز ہ مارچ‘‘ تیاریا ں تیز،انتظامی کمیٹی کااہم اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2025 GMT
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی کے تحت اسرائیلی جارحیت و دہشت گردی کے خلاف اہل غزہ و فلسطین سے اظہار یکجہتی کے لیے اتوار 12جنوری کو 3بجے دن سی ویو روڈ پر منعقد ہونے والے عظیم الشان ’’غزہ مارچ‘‘ کی تیاریاں اور انتظامات تیزی سے جاری ہیں ، اس سلسلے میں سیکرٹری کراچی توفیق الدین صدیقی کی زیر صدارت ادارہ نور حق میں انتظامی کمیٹی کا اجلاس ہوا ، امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے اجلاس میں خصوصی طور پر شرکت کی ، اجلاس میں ’’غزہ مارچ‘‘ کے سلسلے میں تشکیل دی گئیں مختلف ذیلی کمیٹیوں کے ذمہ داران نے اب تک کی جانے والی تیاریوں و انتظامات کے بارے میں بتایا ، مختلف تجاویز وآراء کی روشنی میں مارچ کو بھر پور اور کامیاب بنانے اور شہریوں کی اپنی فیملیز کے ہمراہ بڑی تعداد میں شرکت کو یقینی بنانے کے لیے اہم فیصلے اور اقدامات کیے گئے اور تمام ذمہ داران کو ہدایت کی گئی کہ تمام تیاریوں و انتظامات کو جلد از جلد حتمی شکل دے دی جائے ۔ مارچ کا آغاز مین سی ویو روڈ پر نشان پاکستان سے ہوگا اور امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان سمیت مختلف رہنما مارچ سے خطاب کریں گے ۔ منعم ظفر خان نے انتظامی کمیٹی کے اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انبیاء ؑکی سر زمین فلسطین اور مسلمانوں کے قبلۂ اوّل کی آزادی پوری امت کے ایمان اور عقیدے کا معاملہ ہے ۔حماس کے مجاہدین و اہل غزہ نے پوری امت کا سر فخر سے بلند اور اسرائیل کا غرورخاک میں ملا دیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ مزاحمت میں ہی زندگی ہے ، ان کی حمائت اور پشتیبانی پوری امت کی ذمہ داری ہے بالخصوص عالم اسلام کے حکمرانوں اور افواج کا فرض ہے کہ وہ اسرائیلی جارحیت و دہشت گردی روکنے کے لیے جرأت مندانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے راست اور عملی اقدامات کریں ۔ منعم ظفر خان نے کہا کہ امریکہ و مغربی ممالک کی پشت پناہی ، اقوام متحدہ کی مجرمانہ خاموشی و جانبداری اور عالم اسلام کے حکمرانوں کی بزدلی نے اسرائیل کو شہ دی ہے اور وہ خونی درندہ بنا ہوا ہے ۔ 15ماہ سے غزہ میں فلسطینی مسلمانوں کی بدترین نسل کشی کی جارہی ہے ، اسرائیل 32ہزار سے زائد بچوں و خواتین سمیت 46ہزار فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے ، غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے ، اسرائیل عالمی جنگی قوانین کی خلاف ورزیوں کا بھی مرتکب ہو رہا ہے اور شہری آبادیوں، اسکولوں ہسپتالوں اور پناہ گزینوں کے کیمپوں پر بھی بمباری کر رہا ہے ، ادویات اور غذائی اجناس کی رسد کے راستے بھی بند کیے ہوئے ہیں ، ان حالات کے باوجود اہل ِ غزہ اسرائیل کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں ،ان کی جرأ ت و استقامت اور قربانیوں کو پوری امت مسلمہ سلام پیش کرتی ہے ، حماس کے مجاہدین اور اہل غزہ پوری امت کا اثاثہ ہیں ، ہمارے حکمران خواہ کتنی ہی بزدلی دکھائیں ، عوام اہل ِ غزہ کی حمایت اور یکجہتی جاری رکھیں گے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پوری امت
پڑھیں:
مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 مخصوص نشستوں کے مستقبل اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم مطالبات پر غور کے لیے ریاست کی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) آج مظفرآباد میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس کو آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور ممکنہ فیصلوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ گئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، اپوزیشن جماعتوں اور دیگر سیاسی و مذہبی حلقوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات، خصوصاً مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 اسمبلی نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟
آزاد کشمیر اسمبلی میں پاکستان کے مختلف شہروں اور علاقوں میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کے لیے 12 نشستیں مختص ہیں۔ ان نشستوں پر بھی آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے ساتھ ہی ووٹنگ ہوتی ہے اور منتخب نمائندے قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنتے ہیں۔ تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں ان نشستوں کے نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت پیر کے روز اسلام آباد میں آزاد کشمیر کی صورتحال پر ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور موجودہ سیاسی ماحول پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں 9 جون کو دی جانے والی احتجاجی کال اور حالیہ مذاکراتی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق، اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد، مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ وفاقی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے بھی وزیراعظم پاکستان کو ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کیا۔
واضح رہے کہ 30 مئی کو مظفرآباد میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، تاہم ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کرتے ہوئے 9 جون کے احتجاجی پروگرام کو برقرار رکھا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر حکومت اور عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟
پیر کے روز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ ممکنہ طویل احتجاج کے پیش نظر ایک ماہ کا راشن ذخیرہ کر لیں، جبکہ 9 جون کو آزاد کشمیر بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن اور لاک ڈاؤن کی کال بھی دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ 2023 میں عوامی ایکشن کمیٹی نے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سمیت متعدد عوامی مطالبات کے لیے کامیاب احتجاجی تحریک چلائی تھی، جس کے نتیجے میں حکومت نے کئی مطالبات تسلیم کیے تھے۔ گزشتہ برس ستمبر میں بھی کمیٹی نے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا، جس کے بعد حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔
آزاد کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 36 مطالبات پر عملدرآمد ہو چکا ہے، جبکہ اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کی نشستوں سے متعلق معاملات پر قائم کمیٹیاں اپنی سفارشات تیار کر رہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ محض ایک انتظامی یا انتخابی مسئلہ نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے سیاسی ڈھانچے، نمائندگی کے نظام اور آئینی توازن سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی خود کو عوامی سطح پر مقبول سمجھتی ہے تو اسے انتخابی سیاست میں حصہ لے کر اپنی عوامی حمایت کو پارلیمانی طاقت میں تبدیل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ریاستی امور کو احتجاجی دباؤ کے بجائے جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھایا جانا زیادہ مؤثر اور پائیدار راستہ ہے۔
سیاسی حلقوں کی نظریں اب آج ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس پر مرکوز ہیں، جہاں ہونے والے فیصلے نہ صرف مہاجرین کی نشستوں بلکہ آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال اور 9 جون کے متوقع احتجاجی منظرنامے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر جوائنٹ کشمیر مہاجر نشستیں