بنوقابل نوجوانوں کے روشن مستقبل کی کنجی قرار
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2025 GMT
کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی ضلع کورنگی مرزا فرحان بیگ نے نوجوانوں کے لیے بنو قابل اہلیت ٹیسٹ کو ایک انقلابی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ٹیسٹ نوجوانوں کی قابلیت کو نکھارنے اور ان کے روشن مستقبل کی ضمانت فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔انہوں نے اعلان کیا کہ بنو قابل اہلیت ٹیسٹ کا انعقاد 12 جنوری 2025 کو کراچی کے راشد لطیف اسٹیڈیم میں ہوگا۔ اس اہم موقع پر ہزاروں نوجوان اپنی صلاحیتوں کو پرکھنے اور اپنی قابلیت کو مزید بہتر بنانے کا موقع حاصل کریں گے۔مرزا فرحان بیگ نے اپنے بیان میں کہا کہ جماعت اسلامی نوجوانوں کی ترقی اور ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ہمیشہ سرگرم رہی ہے۔ بنو قابل پروگرام کے تحت ہونے والا یہ اہلیت ٹیسٹ نوجوانوں کو عملی زندگی میں کامیابی کے لیے رہنمائی اور ضروری مہارتوں سے آراستہ کرے گا۔انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، “یہ ٹیسٹ آپ کی زندگی کا ایک سنہری موقع ہے۔ اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، انہیں نکھاریں اور ملک و قوم کی خدمت کے لیے تیار ہوں ۔” مرزا فرحان بیگ نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو اس ٹیسٹ میں بھرپور شرکت کے لیے ترغیب دیں تاکہ وہ اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی میں کامیاب مستقبل کی جانب قدم بڑھا سکیں۔
.ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
48 فیصد نوجوانوں نے سوشل میڈیا کو ذہنی صحت کیلئے نقصان دہ قرار دیدیا
ویسے تو کہا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا سے نوجوانوں کے ذہنوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں مگر خود نوجوان اس بارے میں کیا سوچتے ہیں؟تو ہر 5 میں ایک نوجوان کا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا سے اس کی دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔یہ بات پیو ریسرچ سینٹر کی ایک نئی رپورٹ میں سامنے آئی۔
اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بیشتر نوجوانوں کا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا ان کی عمر کے افراد کے لیے نقصان دہ ہے۔یہ تحقیق اس وقت سامنے آئی ہے جب کچھ عرصے قبل یو ایس سرجن جنرل نے انتباہ کیا تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نوجوانوں کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور نوجوانوں میں ذہنی صحت کے مسائل کی شرح بڑھ رہی ہے۔اس تحقیق میں 13 سے 17 سال کے لگ بھگ 1400 افراد کو شامل کیا گیا تھا۔
تحقیق میں شامل 48 فیصد نوجوانوں نے کہا کہ سوشل میڈیا ان کی عمر کے افراد پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے، جبکہ 14 فیصد نے کہا کہ اس سے ان کی ذہنی صحت متاثر ہوئی ہے۔لڑکوں (14 فیصد) کے مقابلے میں نوجوان لڑکیوں (25 فیصد) کی جانب سے سوشل میڈیا سے ذہنی صحت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کو زیادہ رپورٹ کیا گیا اور انہوں نے بتایا کہ اس سے ان کا اعتماد اور نیند متاثر ہوئی ہے۔
تحقیق میں کہا گیا کہ نوجوانوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر اب زیادہ وقت گزارا جا رہا ہے۔45 فیصد نوجوانوں نے بتایا کہ وہ بہت زیادہ وقت سوشل میڈیا پر گزار رہے ہیں۔مگر اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے اہم فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔74 فیصد کے مطابق سوشل میڈیا سے انہیں دوستوں سے زیادہ جڑنے کا احساس ہوتا ہے۔
البتہ نوجوانوں کے مقابلے میں والدین کی جانب سے زیادہ خدشات کا اظہار کیا گیا اور 55 فیصد کا کہنا تھا کہ انہیں موجودہ عہد کے نوجوانوں کی ذہنی صحت کے حوالے سے بہت زیادہ تشویش ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ نوجوانوں کی جانب سے اب سوشل میڈیا کو ذہنی صحت کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔