ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت) نائب امیر جماعت اسلامی عثمان شاہ مولانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ انسان کی زندگی کا مقصد صرف اللہ کا نظام زمین پر نافذ کرنا ہے، قرآن وسنت سے دوری کی وجہ سے ہم مسائل اور مشکلات کا شکار ہیں۔ یہ بات انہوں نے مدرسہ ریاض العلوم عثمان شاہ میں جمعیت طلبہ عربیہ کی شب بیداری کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم کے کندھوں پر بہت بڑی ذمے داری ہوتی ہے، وہ قرآن وسنت کے پیغام کو سمجھ کر اسے لوگوں تک پہنچائیں اور انہیں بتائیں کہ آج ہم جن مسائل سے دوچار ہیں، اس کی سب سے بڑی وجہ قرآن و سنت کی تعلیمات سے دوری ہے، اس کی وجہ سے ہماری نئی نسل بے راہ روی کا شکار اور ہم مسائل و مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں رات کو اُ ٹھ کر اپنے رب کے حضور توبہ استغفار کرنا چاہیے، انسانوں کے بجائے اللہ ہی سے مدد طلب کرنا چاہیے، تربیت گاہ سے جمعیت طلبہ عربیہ حیدرآباد کے امین عبدالمنعم نے خطاب کرتے ہوئے کہا جمعیت طلبہ عر بیہ مدراس کے طلبہ کی سب سے بڑی تنظیم ہے، یہ تنظیم طلبہ کو دینی اور دنیوی دونوں تعلیم سے آراستہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت فرقہ واریت عصبیات اور لسانیت سے پاک تنظیم ہے، وہ اپنے طلبہ کے کردار کی تعمیر قرآن وسنت کے مطابق کر رہی ہے۔ تربیت گاہ سے منتظم عربیہ عثمان شاہ، رضوان احمد اور بزم قرآن ضلع حیدرآباد کے ناظم محمد اقبال نے بھی خطاب کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ