لوئر کرم گاؤں خار کلی اور بالش خیل میں بنکرز ختم کرنے کا حکم جاری ، ڈی سی
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2025 GMT
ڈپٹی کمشنر نے لوئر کرم گاؤں خار کلی اور بالش خیل میں بنکرز ختم کرنے کا حکم جاری کردیا، بنکرز ختم کرنے پر کل سے کام شروع ہوجائے گا۔
ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ اداروں کو حکم نامہ جاری کر دیا، ایکسین سی اینڈ ڈبلیو اپر و لوئر کرم کو موقع پر حاضر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، مورچے ختم کرنے کے لیے ضروری اوزار اور ورکرز لے جانے کی بھی ہدایت کی گئی۔
حکمنامے کے مطابق ابتدائی طور پر دونوں فریقین کے ایک ایک گاؤں سے بنکرز ختم کیے جائیں گے، دونوں گاؤں میں بنکرز ختم کرنے کیلئے 14 رکنی سرکاری ٹیم جائے گی۔
یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کی ایپکس کمیٹی اجلاس میں کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔