کیا ٹرمپ بائیڈن سے بہتر ثابت ہوں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2025 GMT
ٹرمپ نے امریکی انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کر کے بلاشبہ بائیڈن کو سبق آموز شکست دی ہے مگر اس شکست کی وجہ بائیڈن کی بحیثیت امریکی صدر اندرونی غلطیاں اور عالمی امور میں ناکامیوں کو قرار دیا جا رہا ہے۔ ویسے بھی بائیڈن کی ناکامیابیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں، سب سے اول تو وہ غزہ کا مسئلہ حل کرانے میں ناکام رہے مگر کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ اس مسئلے کو حل کرانا چاہتے ہی نہیں تھے۔
بائیڈن کا دور اب ختم ہونے والا ہے۔ غزہ میں ڈیڑھ سال سے فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہے مگر افسوس کہ بائیڈن نیتن یاہو کو نہ روک سکے بلکہ یہ کہنا کسی طرح غلط نہ ہوگا کہ وہ اسے روکنا چاہتے ہی نہیں تھے، اس بات کا ثبوت اس طرح بھی مل جاتا ہے کہ جب بھی سلامتی کونسل میں غزہ میں جنگ بند کرانے کے لیے کسی ملک کی جانب سے قرارداد پیش کی گئی تو امریکا کی جانب سے اس کے خلاف ویٹو استعمال کیا گیا۔
یہ سب بائیڈن کی فطرت میں چھپی عیاری کا پتا دیتا ہے کہ ایک طرف وہ جنگ کے خلاف تھے تو دوسری طرف وہ اسرائیلی بربریت کو بڑھاوا دیے جا رہے تھے شاید ان کی اس مکاری کا صلہ قدرت نے انھیں یہ دیا کہ وہ امریکی صدارت کے لیے دوسری مرتبہ الیکشن لڑنے کے لیے اہل ثابت نہیں ہو سکے۔
اب ٹرمپ کا دور شروع ہو گا تو پتا چلے گا کہ ان کی غزہ کے بارے میں کیا پالیسی ہے، ویسے انھوں نے نیتن یاہو کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کے حلف اٹھانے سے پہلے ہی غزہ پر حملے بند کردے اور جنگ بندی کا معاہدہ کر لے۔ اب دیکھتے ہیں کیا ٹرمپ بائیڈن کی طرح فلسطینیوں کے خون سے ہاتھ رنگتے ہیں یا پھر انھیں نیتن یاہو کی بربریت سے بچاتے ہیں۔
ابھی انھوں نے حلف بھی نہیں اٹھایا ہے مگر اس سے پہلے ہی بڑی بڑی باتیں اور بڑے بڑے دعوے کر رہے ہیں۔ انھوں نے کینیڈا کو امریکا میں ضم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور پاناما وگرین لینڈ کو خریدنے کا ارادہ ظاہرکیا ہے۔
کیا یہ سب کچھ ممکن ہے؟ لگتا ہے وہ اس دفعہ اپنی جیت سے اتنے خوش ہیں کہ آپے سے باہر ہو گئے ہیں۔ وہ سب سے پہلے اپنے ملک کے مسائل کو حل کرنے پر توجہ مرکوز کریں تو ہی بہتر ہوگا، اس لیے کہ بائیڈن نے اپنے چار سالہ دور میں امریکی امیج کو بہت نقصان پہنچایا ہے دوستوں کو دشمن بنایا ہے اور یوکرین جیسے محاذ پر ذلت اٹھائی ہے، اس کے علاوہ بھی دیگر مسائل ہیں جن پر توجہ مرکوزکرنا ضروری ہے۔
ٹرمپ کے اپنے دوستوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے اور بڑی بڑی باتیں کرنے سے امریکا کو تو نقصان پہنچے گا ہی ساتھ ہی ٹرمپ کی صلاحیت پر بھی شک کیا جائے گا۔ ویسے بھی وہ 80 سال کے ہو چکے ہیں چنانچہ ان کے لیے بہتر یہی ہے کہ پہلے اپنے ملکی مسائل کی جانب توجہ دیں اور پھر عالمی مسائل کی جانب مائل ہوں۔
اس میں شک نہیں کہ اس وقت عالمی حالات امریکی مفاد کے خلاف ہیں۔ چین اور روس عالمی سطح پر اپنا مقام بنا رہے ہیں جب کہ امریکی اجارہ داری نے پوری عالمی برادری کو ناراض کردیا ہے۔ خود یورپی ممالک جو کبھی امریکا کا دم بھرتے تھے، اب امریکا سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔
یورپ کی سیکیورٹی کی ذمے داری امریکا نے اٹھائی ہوئی ہے مگر اب یورپی ممالک خود اپنی حفاظت کا انتظام کر رہے ہیں اور امریکن ڈکٹیشن پر چلتے ہوئے جن ممالک سے دشمنی کی فضا قائم تھی، ان سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔
ٹرمپ پہلے صدر ہوں گے جنھوں نے یورپ سے اس کی حفاظت کے عوض معاوضہ طلب کیا ہے۔ یہ امریکی رویہ سراسر یورپی ممالک کو کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہوگا۔ امریکی منفی رویے کی وجہ سے ہی مشرقی یورپ کے کئی ممالک جو پہلے روس سے ٹوٹ کر مغربی ممالک کے حلیف بن گئے تھے اور بعد میں نیٹو کے ممبر بھی بن گئے تھے اب روس کی طرف واپس جا رہے ہیں وہ پیوتن کی پالیسیوں کو بھی کھلم کھلا سراہ رہے ہیں۔
دراصل روس کی پالیسی امریکا کی طرح دنیا پر حکمرانی کرنے یا اپنی طاقت کے بل پر کمزور ممالک پر قبضہ کرنے والی نہیں ہے۔ روس اب پہلے کی طرح صرف اپنے حلیفوں تک تعلقات محدود رکھنے کی پالیسی کو ترک کر کے تمام ممالک کے دکھ درد میں شریک ہو رہا ہے۔ افریقہ اور جنوبی امریکا کے غریب ممالک میں اب وہ بہت مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ مغربی ممالک سے ہٹ کر وہ ’’ جیو اور جینے دو ‘‘ کی پالیسی پر گامزن ہے۔
روس کی اب برصغیر کے لیے خارجہ پالیسی میں بھی بہت تغیر آ چکا ہے، پہلے وہ صرف بھارت کا دم بھرتا تھا مگر اب وہ پاکستان سے بھی اچھے تعلقات قائم کر چکا ہے۔ کشمیر کے بارے میں بھی اب اس کی پالیسی پہلے کی طرح بھارت نواز نہیں رہی ہے۔
بھارت روس کو اب بدلے ہوئے حالات میں یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ اسے پہلے کی طرح اپنا قبلہ و کعبہ مانتا ہے مگر اس کی پالیسی سراسر دوغلی ہے۔ وہ مغربی ممالک سے بھی فائدہ اٹھانے کے لیے دوستی کا ڈرامہ رچا رہا ہے۔ اس کی موقع شناس خارجہ پالیسی کی وجہ سے روس اور مغربی ممالک دونوں ہی اسے شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔
امریکا اور کینیڈا میں جب سے بھارت نے سکھوں کے رہنماؤں کو قتل کرانے کی غلطی کی ہے، اس سے باز پرس کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکا اورکینیڈا دونوں چاہتے ہیں کہ بھارت اپنے جرم کا اعتراف کر لے مگر وہ اپنے جرم کو قبول نہیں کر پا رہا ہے۔ تاہم اب اس کی دہشت گردی بے نقاب ہو چکی ہے۔
وہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے پوری دنیا میں بدنام ہو چکا ہے۔ امریکی روزنامے واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک حالیہ اشاعت میں بھارت کے امریکا کینیڈا اور پاکستان سمیت کئی ممالک میں ’’را‘‘ کے ذریعے اپنے مخالفین کو قتل کرانے کی رپورٹ شایع کی ہے۔
اب حقیقت یہ ہے کہ بھارت کی عزت خاک میں مل چکی ہے اور یہ صورت حال بی جے پی حکومت کے لیے ڈوب مرنے والی ہے کیونکہ وہ تو بھارت کو ایک مہان دیش بنانا چاہتے ہیں مگر وہ تو ایک دہشت گرد ملک کے طور پر دنیا بھر میں بدنام ہو چکا ہے۔ مودی نے لگتا ہے اب ٹرمپ کی آشیرباد سے بھارت کی ساکھ کو بہتر بنانے کی امید لگا رکھی ہے مگر اب تو وہ بھی بدلے بدلے نظر آتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مغربی ممالک کی پالیسی بائیڈن کی چاہتے ہی سے پہلے کی جانب رہے ہیں رہا ہے کی طرح کی وجہ ہے مگر سے بھی
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔