18 ماہ سے کوٹ لکھپت جیل میں قید سینیٹر اعجاز چوہدری کی پروڈکشن آرڈر جاری
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2025 GMT
چیئرمین سینیٹ سیّد یوسف رضا گیلانی نے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں 18 ماہ سے قید سینیٹر اعجاز احمد چوہدری کے پروڈکشن آرڈر جاری کردیے۔
یہ بھی پڑھیں اسپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کے گرفتار ممبران قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیے
چیئرمین سینیٹ نے ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف سینیٹر سید شبلی فراز کی درخواست پر رولز کے مطابق پروڈکش آرڈر جاری کیے۔
سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر کی کاپیاں سیکریٹری داخلہ، چیف سیکریٹری پنجاب اور متعلقہ حکام کو جاری کردی گئیں۔
چیئرمین سینیٹ نے احکامات جاری کیے ہیں کہ سینیٹ کے 345ویں اجلاس میں سینیٹر اعجاز چوہدری کی شرکت کو یقینی بنایا جائے۔
چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ اجلاس میں ان کی شرکت ازحد ضروری ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے سینیٹ کے قواعد و ضوابط 2012 کے رول 84 کے تحت دیے گئے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے یہ احکامات جاری کیے۔
یہ بھی پڑھیں میرے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں‘، اعجاز چوہدری کا جیل سے خط’
واضح رہے کہ سینیٹ کا اجلاس کل 14 جنوری بروز منگل کو شام 4 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews احکامات جاری پاکستان تحریک انصاف پروڈکشن آرڈر جاری پی ٹی آئی چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی شبلی فراز وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: احکامات جاری پاکستان تحریک انصاف پروڈکشن ا رڈر جاری پی ٹی ا ئی چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی شبلی فراز وی نیوز چیئرمین سینیٹ نے سینیٹر اعجاز اعجاز چوہدری جاری کیے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک