71 ہزار 849 شناختی کارڈز بلاک کردیئے گئے
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2025 GMT
گزشتہ 5 سال میں بلاک شناختی کارڈز کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کردی گئی ۔
وزارت داخلہ کے مطابق گزشتہ 5 سال میں کل 71 ہزار 849 شناختی کارڈز بلاک کئے گئے،خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ 25 ہزار 981 شناختی کارڈز بلاک کیے گئے۔
پنجاب میں 13 ہزار سے زائد،بلوچستان میں 20 ہزار 583 اورسندھ میں 9 ہزار 677 شناختی کارڈ بلاک کئے گئے ہیں۔
اسی طرح اسلام آباد 1370، گلگت بلتستان 228 اور آزاد کشمیر میں 446 شناختی کارڈز بلاک کئے گئے،گزشتہ 5 سال میں 44 ہزار 460 شناختی کارڈز ضروری تصدیق کے بعد ان بلاک کئے گئے۔
وزارت داخلہ کا مزید کہنا ہے کہ ابھی تک 13 ہزار 618 بلاک شناختی کارڈ زیر تفتیش ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بلاک کئے گئے
پڑھیں:
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو عالمی اعزاز پر مبارکباد
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وزارتِ خزانہ کی ڈپٹی سیکرٹری محترمہ عائشہ جاوید کو عالمی شہرت یافتہ اشاعتی ادارے راؤٹلیج (Routledge) کی کتاب “Women in Public Finance: Stories of Gender in Budgeting” میں بطور مصنفہ شامل کیے جانے پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے محترمہ عائشہ جاوید کی اس شاندار کامیابی کو پاکستان کے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا تحریر کردہ باب “Limitless Skies and Endless Dreams” ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، محنت اور عوامی مالیات، پالیسی سازی اور صنفی حساس بجٹ سازی (Gender-Responsive Budgeting) کے شعبوں میں پاکستانی خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔
مزیدپڑھیں:میسی ارجنٹائن کے صدر بنیں گے؟ نئی پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستانی خواتین کی کامیابیاں نہ صرف ملک کا مثبت تشخص اجاگر کرتی ہیں بلکہ پاکستان کے سرکاری شعبے سے وابستہ افسران کی غیر معمولی صلاحیتوں، لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کا بھی ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اعزازات بالخصوص نوجوان خواتین کے لیے باعثِ تحریک ہیں اور انہیں قومی ترقی اور عوامی خدمت میں مؤثر کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خواتین کی بااختیار شرکت، قیادت اور پیشہ ورانہ ترقی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میرٹ، مساوی مواقع اور شمولیتی ماحول ہی مؤثر طرزِ حکمرانی اور پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہیں