چیمپئینز ٹرافی؛ فینز کا لہو گرمانے کیلئے آئی سی سی نے نیا پرومو جاری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2025 GMT
چیمپئینز ٹرافی ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل فینز کا لہو گرمانے کیلئے آئی سی سی نے نیا پرومو جاری کردیا۔
آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ پروموشنل ویڈیو لیجنڈری کرکٹر وسیم اکرم کو نمایاں دیکھایا گیا ہے جو ایونٹ کیلئے وائٹ کوٹ کی اہمیت کو اُجاگر کرتے نظر آرہے ہیں۔
میگا ایونٹ سے قبل انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو وائٹ کوٹ کو عظمت کی علامت قرار دیتی ہے۔
مزید پڑھیں: چیمپئینز ٹرافی؛ پاک بھارت ٹاکرا، کس کا پلڑا بھاری ہوگا؟
وسیم اکرم نے ویڈیو میں کہا اب عالمی کرکٹ کمیونٹی میں ایونٹ کا جوش و خروش پیدا ہوگا، چیمپئینز ٹرافی میں سب سے مضبوط ٹیم ٹورنامنٹ جیتتی نظر آئے گی۔
مزید پڑھیں: چیمپئینز ٹرافی؛ اسکواڈ کا نام دینے کی آخری تاریخ، پاکستان کا ارادہ کیا؟
خیال رہے کہ آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی میلہ 19 فروری سے سجے گا جبکہ ایونٹ کا فائنل 9 مارچ کو کھیلا جائے گا۔
ٹورنامنٹ کا افتتاحی میچ دفاعی چیمپئین پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان 19 فروری کو کھیلا جائے گا۔
facebook.com/icc/videos/998468852221085/?rdid=DYw6W2Y0LvIHzs5e&share_url=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2Fshare%2Fv%2F19rQhsdifn%2F
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیمپئینز ٹرافی
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔