الخدمت بنوقابل پروگرام کے فارغ التحصیل ہزاروں طلبہ کیلیے تقریب
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2025 GMT
راولپنڈی: الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے بنو قابل پروگرام نے کراچی کے بعد لاہورمیں بھی کورسز مکمل کرنے والے طلبہ وطالبات کوفری لیپ ٹاپ دینے کا آغاز کردیا۔
آئی ٹی سمیت دیگرجدید کورسز مکمل کرنے والے ہزاروں طلبہ کے لیے ایکسپوسنٹرلاہورمیں تقریب کاانعقاد کیا گیا، جس کے مہمان خصوصی امیرجماعت اسلامی پاکستان انجینئرحافظ نعیم الرحمن تھے۔ امیر لاہور ضیا الدین انصاری، ریجنل صدر الخدمت فاؤنڈیشن لاہور انجینئر احمد حماد رشید، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز سلمان شیخ،عمیر ادریس،سینئر منیجر میڈیاریلیشنزشعیب ہاشمی، یونیورسٹی پروفیسرز،ٹرینرز سمیت زندگی کے مختلف شعبوں کے نمایاں افراد تقریب میں شریک ہوئے۔
مہمانان خصوصی نے کورس مکمل کرنے والے طلبہ وطالبات میں سرٹیفکیٹ تقسیم کیے۔کورسزکے دوران نمایاں کارکردگی کامظاہرہ کرنے والے طلبہ کو مفت لیپ ٹاپ دئیے گئے جن کے باعث وہ اپنی عملی زندگی میں روزگار کے قابل ہوسکیں گے۔
انجینئر حافظ نعیم الرحمن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کی 25 کروڑ آبادی کا 65 فیصدسے زائد حصہ 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے،ملک میں قدرتی وسائل کی فراوانی ہے،ملکی آئین ہر بچے کو مفت اور معیاری تعلیم فراہم کرنے کا وعدہ کرتا ہے، لیکن زمینی حقائق مختلف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں پونے 3کروڑ کے لگ بھگ بچے اسکولوں سے محروم ہیں جنہیں تعلیم دینا حکومت کی ذمے داری ہے۔آئی ٹی سیکٹرمیں بے روزگار نوجوانوں کے لیے بہت زیادہ مواقع ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ الخدمت فاؤنڈیشن کے بنوقابل پروگرام کا آغاز 2022میں کراچی سے ہواجسے اب پورے پاکستان میں پھیلایاجارہا ہے۔بلوچستان،خیبرپختونخوا،سندھ اور پنجاب کے پسماندہ اضلاع ہمارا ٹارگٹ ہیں وہاں کیمپس قائم کرکے نوجوانوں کو آئی ٹی سمیت دیگرجدیدکورسز کروائیں گے جن کی بدولت یہ نوجوان اپنے سمیت دیگرنوجوانوں کوبھی روزگارکی فراہمی کا ذریعہ بنیں گے۔
انہوں نے کہا کہ 16کروڑ نوجوان پاکستانی قوم کا سرمایہ ہیں۔ الخدمت کی ٹیم کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں جو انتہائی محنت سے اس سرمائے کومحفوظ اورقابل بنانے کے لیے عملی اقدامات کررہی ہے۔50ہزار طلبہ بنوقابل پروگرام کے ذریعے کورسزکے بعد عملی زندگی کا آغازکرچکے ہیں اور وہ نہ صرف اپناروزگار کمارہے ہیں بلکہ دیگرنوجوانوں کے روزگارکی فراہمی کا ذریعہ بن رہے ہیں۔
امیر جماعت کا کہنا تھا کہ 2 برس میں10لاکھ نوجوانوں کو آئی ٹی سمیت دیگرکورسز کروانے کے بعد روزگارمیں معاونت ہمارا ہدف ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن کے ذمے داران نے کہاکہ نوجوانوں کو ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ویب ڈویلپمنٹ، فری لانسنگ، ای کامرس،آئی ٹی سمیت 28 فری کورسز کروائے جارہے ہیں۔وفاقی دارالحکومت سمیت ڈویژنل ہیڈکواٹرزاور پسماندہ اضلاع میں بنوقابل پروگرام کے سینٹرزکاقیام جاری ہے جن کی بدولت نوجوان جدیداسکل سے آراستہ ہوکراپنے خاندانوں کی کفالت کے قابل بن سکیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بنوقابل پروگرام نوجوانوں کو آئی ٹی سمیت کرنے والے
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔