جاپان کا انسدادپولیو پروگرام کیلیے 3.5 ملین ڈالر گرانٹ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جاپان نے 24 لاکھ سے زاید پولیو ویکسین کی خوراکیں خریدنے کیلیے 3.5 ملین ڈالر کی گرانٹ کا اعلان کیا ہے۔ نیشنل ای او سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گرانٹ سے متعلق معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب اسلام آباد میں ہوئی۔ تقریب میں جاپان اور یونیسیف کے نمائندوں نے معاہدے پر دستخط کیے۔ نیشنل ای او سی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس گرانٹ سے پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور گزشتہ کامیابیوں کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو عائشہ رضا فاروق نے پولیو کے خاتمے کے لیے جاپان کے مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ دوسری جانب پاکستان میں تعینات جاپان کے سفیر نے پاکستان کی صحت عامہ کی ترجیحات کے لیے اپنے طویل المدتی عزم کا اعادہ کیا ہے۔ خیال رہے کہ جاپان 1996 سے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے دیرینہ شراکت دار ہے جس نے پولیو کے خلاف جنگ میں 245 ملین ڈالر سے زائد کی گرانٹس اور قرضے فراہم کیے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔